غدر سے بے خبر نہیں ہونا

بدعائے بشر نہیں ہونا منزلوں کا سُراغ بھی رکھنا صرف گردِ سفر نہیں ہونا تان رکھنا وجود پر چھایا ماسوائے شجر نہیں ہونا شام بننا کوئی سُہانی سی جون کی دوپہر نہیں ہونا صحرا کی خشکیوں سے چکرا کر پانیوں کا بھنور نہیں ہونا مرتضیٰ لوگ روند ڈالیں گے اتنے بھی بے ضرر نہیں ہونا

لکیریں تھیں کچھ اور کچھ دائرے

بدلتے رہے آنکھ کے زاویے جنہیں زعم تھا موم سے جسم پر انہوں نے کئے سورجوں سے گِلے امیروں کے لاکرز میں دھن کے ساتھ غریبوں کے ارمان بھی بند تھے محبت کی ہے میں نے اُس سے اگر ضروری نہیں وہ بھی چاہے مجھے تجھے ساتھ لے کر چلوں کس طرح مِرے سر پہ […]

تیغ اپنوں نے چھینی تھی

ورنہ جیت یقینی تھی رات سحر تک مہکا ہوں اُس کی خوشبو بھینی تھی ہم فرسودہ کہلائے اپنی خصلت دینی تھی نازک ہاتھ جلا ڈالے چائے لازم پینی تھی پریوں سے سُندر تھا رُوپ لیکن خلق زمینی تھی کس سُرعت سے درد ملے وقت کی کوکھ مشینی تھی

خسارہ بھی اگر ہو منفعت کہنا

محبت کو کبھی آزار مت کہنا کبھی آہٹ کو دستک جاننا دل کا کبھی یوں ہی کسی پُرزے کو خط کہنا تم اپنے سر کوئی الزام مت لینا جُدائی پر تھے میرے دستخط کہنا خطائیں ٹھیک ہیں اپنی جگہ لیکن محبت میں غلط ہے معذرت کہنا سنو! پہلے مجھے تسخیر کر لو تم پھر اُس […]

ہوا چیر دیتی ہے اِس شہر کی

فضا موت جیسی ہے اِس شہر کی لہو کے سمندر سے شمشان تک ملاقات ہوتی ہے اِس شہر کی خرابوں کے اوراق پر گونجتی ادھوری کہانی ہے اِس شہر کی یہاں خواب اُگنے کا موسم نہیں بڑی بانجھ دھرتی ہے اِس شہر کی سُنا ہے ابھی تک یہاں اِک گلی مری منتظر تھی ، ہے […]

جو عبث ہم پہ رہا شک اُس کا

ہے نہیں ہم کو گِلہ تک اُس کا خود کو محدود کیا ہے اُس تک ہے مری ذات پہ بس حق اُس کا روز آتا تھا وہ تجھ سے مِلنے یوں تو تھا دور بہت چک اُس کا وہ ترے پیار کا دم بھرتا ہے تو بھی کچھ مان کبھی رکھ اُس کا وہ جسے […]

چلو شاید کہ منزل کا نشاں ہے

نہیں تو یہ مسافت رائیگاں ہے نہ ہی تم میں سکت طوفاں سے لڑ لو نہ اپنے پاس کوئی بادباں ہے فقط ہم نام دینے سے ہیں قاصر تعلق تو ہمارے درمیاں ہے میں باسی ہوں کسی بنجر زمیں کا مقابل میرے پیاسا آسماں ہے نہیں ہوتی اسیرِ وقت اشعرؔ محبت دائمی ہے ، جاوداں […]

آہنی دیوار میں در دیکھنا

ایک دن خود سے نکل کر دیکھنا جیت کیسے چومتی ہے پاؤں کو کشتیاں اپنی جلا کر دیکھنا کون پھولوں سے سواگت کرتا ہے کس کے ہاتھوں میں ہے پتھر دیکھنا یاد کے سونے دریچوں سے کوئی جھانکتا ہے میرے اندر دیکھنا جان لینا فاختہ مجبور ہے جب کوئی سہما کبوتر دیکھنا مرتضیٰ اِک شام […]

اسطرح قید ہوں ذات کے خول میں

گولیاں ہوتی ہیں جیسے پستول میں اِک کنواں کھودنے کی فقط دیر تھی پیاس رکھی ملی مجھ کو ہر ڈول میں منتظر ہیں کسی آخری ہچکی کے ہم انأوں کے زندانِ پُر ہول میں کہہ رہی ہیں مناظر کی خاموشیاں کس قدر تابکاری ہے ماحول میں ہو گیا شل بدن اپنے ہی بوجھ سے کاٹ […]

زخم کتنے لگے ہیں چاقو سے

کون پوچھے یہ بات آہو سے شہر میں یاد آتا ہے گاؤں اور وہ لوگ دست و بازو سے دوستی ہے خلوص کا رشتہ تولئے مت اِسے ترازو سے جو جہاں میں مثال بنتے ہیں اب کہاں ہیں وہ لوگ باہو سے لفظ بیساکھیاں بنیں کب تک لِکھ کوئی داستان آنسو سے