غدر سے بے خبر نہیں ہونا

غدر سے بے خبر نہیں ہونا

بدعائے بشر نہیں ہونا

 

منزلوں کا سُراغ بھی رکھنا

صرف گردِ سفر نہیں ہونا

 

تان رکھنا وجود پر چھایا

ماسوائے شجر نہیں ہونا

 

شام بننا کوئی سُہانی سی

جون کی دوپہر نہیں ہونا

 

صحرا کی خشکیوں سے چکرا کر

پانیوں کا بھنور نہیں ہونا

 

مرتضیٰ لوگ روند ڈالیں گے

اتنے بھی بے ضرر نہیں ہونا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں
ھر حقیقت سے الگ اور فسانوں سے پرے
تُم احتیاط کے مارے نہ آئے بارش میں
پناہ کیسی؟ فقیروں کی جس کو آہ ملے
نظریں چُرائیے، نہ ندامت اٹھائیے
جگر بچا ہی نہیں ہے تو کس کو پروا ہے
ترے ذکرسے چِھڑ گئی بات کیا کیا
ثبوت کوئی نہیں ہے ، گواہ کوئی نہیں
ماحول خوابناک ، نہ ہی وقت شب کا تھا
ہم ڈھانپ تو لیں نین ترے نین سے پہلے