کون باتیں کرے تصویروں سے
کون تنہائیاں آباد کرے زینؔ ہر بار میں ہی یاد آؤں وہ کبھی خود بھی مجھے یاد کرے
معلیٰ
کون تنہائیاں آباد کرے زینؔ ہر بار میں ہی یاد آؤں وہ کبھی خود بھی مجھے یاد کرے
تو نے لکھا ہے اک ادھورا خط یہ مرے قیمتی اثاثے ہیں ایک تُو اور اک ادھورا خط
میں بھی یاد کی چادر اوڑھے اُس کو سننے بیٹھا ہوں
مجھے بھولے نہیں بھولا کسی روئے ہوئے کا غم نہ جانے کب، کہاں، کیسے، مجھے ملنے چلا آیا کسی جاگے ہوئے کا غم، کسی سوئے ہوئے کا غم
معجزے خاک پر رقم اُس کے لہر بکھری ہے یم بہ یم اس کی تارے اُترے ہیں خم بہ خم اُس کے
مزاج ترکِ تعلق پہ بے لباس ہوئے بجھائے ایسے ہوا نے چراغِ خوش نظری فروغِ دید کے موسم بھی محوِ یاس ہوئے ہم اعتراض تھے ناقد مرے قصیدوں پر جمالِ یار کو دیکھا تو ہم سپاس ہوئے مری نظر میں خود اپنے ہی نقطہ ہائے نظر نہیں جو تیرا حوالہ تو بے اساس ہوئے یہ […]
آج کسی کی زلفیں بھی تو سلجھی سلجھی سی لگتی ہیں آج مزاجِ یار میں دیکھو پہلے سی تلخی بھی نہیں ہے آج کسی کے ساتھ کی چاہت لفظ دعائیں مانگ رہے ہیں مجھ سے فون پہ جب کہتی ہے آج کے جیسا موسم ہو نا آپ بہت ہی یاد آتے ہیں رِم جھم رِم […]
ترے در سے آئی صدا مجھے، میں دِوانہ وار چلا گیا کسے ہوش تھا کہ رفو کرے یہ دریدہ دامنِ آرزو میں پہن کے جامۂ بیخودی سرِ کوئے یار چلا گیا مری تیز گامیِ شوق نے وہ اُڑائی گرد کہ راستہ جو کھلا تھا میری نگاہ پر وہ پسِ غبار چلا گیا نہ غرورِ عالمِ […]
یہ سنگِ در ترا سارے گھروں سے اونچا ہے مقامِ عجز کو بخشی گئی ہے رفعتِ خاص جو سر خمیدہ ہے وہ ہمسروں سے اونچا ہے فرازِ طور کی خواہش نہ کر ابھی اے عشق یہ آسمان ابھی تیرے پروں سے اونچا ہے خدا مدد! کہ یہ شیطانِ نفسِ امّارہ مرے اُچھالے ہوئے کنکروں سے […]
خاک تھا میں، پھول کے انداز میں رکھا گیا حیثیت اُس خاک کی مت پوچھئے جس کے لئے خاکدانِ سیم و زر آغاز میں رکھا گیا ق اک صلائے عام تھی دنیا مگر میرے لئے اک تکلف دعوتِ شیراز میں رکھا گیا ایک خوابِ آسماں دے کر میانِ آب و گِل بال و پر بستہ […]