اپنے سر تیرے تغافل کا بھی الزام لیا ہے

خود فریبی کا ستم دل پہ کئی بار کیا ہے دل نے اس طرح مداوائے غمِ عشق کیا ہے اک نیا زہر ترے ہاتھ سے ہر روز پیا ہے غم ترا مجھ کو جلاتا نہیں کرتا ہے منوّر ہاتھ پر آگ نہیں یہ تو ہتھیلی پہ دیا ہے عشق سچّا ہو تو کرتا ہے ہر […]

ایک منظر پسِ منظر بھی دکھایا جائے

سانحہ گیارہ ستمبر کے بعد میڈیا کے رویے اور کردار کے حوالے سے لکھی گئی ایک غزل ایک منظر پسِ منظر بھی دکھایا جائے لوح سادہ کو پلٹ کر بھی دکھایا جائے ناتواں ہاتھ میں مجبور سے پتھر کے خلاف ظلم کا آہنی لشکر بھی دکھایا جائے سرنگوں مجھ کو دکھاتے ہو بتقریبِ شکست پھر […]

بجھتے بجھتے بھی اندھیروں میں کرن چھوڑ گیا

وہ مرا شوخ ستارہ جو گگن چھوڑ گیا خواب تو خواب مجھے نیند سے ڈر لگتا ہے جانے والا مری پلکوں پہ شکن چھوڑ گیا اُس نے بھی چھوڑ دیا مجھ کو زمانے کے لئے جس کی خاطر میں زمانے کے جتن چھوڑ گیا کسی زیور کی طرح اُس نے نکھارا مجھ کو پھر کسی […]

اشکِ کم ظرف مرا ضبط ڈبو کر نکلا

میں جسے قطرہ سمجھتا تھا سمندر نکلا جذبۂ شوقِ نظارہ بھی مری آنکھ میں تھا حسنِ نظارہ بھی اس آنکھ کے اندر نکلا بارہا دستِ مسیحا سے بھی کھائے ہیں فریب ہم نے نشتر جسے سمجھا وہی خنجر نکلا ہم سمجھتے تھے کہ سادہ ہے محبت کی کتاب حاشیہ اس میں مگر متن سے بڑھ […]

الفاظ کے پردے میں اگر تُو نہیں نکلے

پھر نوک قلم سے کوئی جادو نہیں نکلے دھُلتا ہے مرے اشکوں سے ہر رات یہ پھر بھی تکیے سے ترے قرب کی خوشبو نہیں نکلے منصف تو بڑی بات اگر ڈھونڈ نے جاؤ اِس شہر ستم گر میں ترازو نہیں نکلے روئے جو کبھی نیشۂ حالات پہ ہم لوگ اک زہر ٹپک آیا ہے […]

ریت گھڑی

(لمبی اداسی تان کے چپ سو گیا ہے وقت) ٹھہری ہے ایک نقطے پہ گزرانِ روز و شب خود اپنی گردشوں میں کہیں کھو گیا ہے وقت گرتا ہے ریزہ ریزہ سا لمحوں کا ریگزار شیشے کے ایک ظرف میں گم ہو گیا ہے وقت اُلٹے گا ریگزار یہ دورانیے کے بعد پھر سے پلٹ […]

حلیفِ ظلمتِ شب تار ہم نہیں ہوں گے

سحر سے بر سرِ پیکار ہم نہیں ہوں گے یہ خوابِ غفلت بیخود ہمیں گوارا ہے فروغِ جبر میں بیدار ہم نہیں ہوں گے ہمیں عزیز ہے حرمت جہادِ منزل کی شریکِ کاوشِ بیزار ہم نہیں ہوں گے کسی حریفِ ستمگر کی پیشوائی میں شریکِ مجمع اغیار ہم نہیں ہوں گے سجاؤ سر پہ کسی […]