مری طرح سے نہ حق بات تم کہو دیکھو

مری طرح سے نہ حق بات تم کہو دیکھو

بلا کا سایہ مرے آس پاس کیسا ہے

یہ فیصلہ ہے کہ ہم اپنے حق سے باز آئیں

تو پھر یہ لہجہ یہ ترا، التماس کیسا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دُگنے ہو جاتے ہیں غم ، دِل سے جو مَس ہوتے ہیں
خُدا کی عظمتوں کا ذکر کرنا
خدائے مہرباں کی ذاتِ باری
خداوندا کرم کا ابر برسا
خدا سایہ کُناں ہے بندگی میں
جہاں سارے بنائے ہیں خدا نے
عبادت ہو ادا کچھ اِس ادا سے
کرم کا مرحلہ پیشِ نظر ہے
خدا ہی شکم مادر میں کرے پھُولوں کی افزائش
خدا سا مہرباں تھا ہے نہ ہو گا