سجا کے شبنمی آنسو گلاب چہرے پر

کہانی لکھ گیا کوئی کتاب چہرے پر نظر سے اٹھتا ہے برباد جنتوں کا دھواں سلگ رہے ہیں ہزاروں عذاب چہرے پر نگاہیں ساتھ نہیں دیتیں شوخیِ لب کا جھلک رہی ہے حقیقت سراب چہرے پر کہانیاں پسِ پردہ ہزار ہوتی ہیں طمانیت کا اگر ہو نقاب چہرے پر مرے مزاج کا رد عمل نہیں […]

زہر کی ہے یہ لہو میں کہ دوا کی تیزی

دل کی رفتار میں آئی ہے بلا کی تیزی اُس کے چھونے سے مرے زخم ہوئے رشکِ گلاب بس گئی خون میں اُس رنگِ حنا کی تیزی بھاوٴ بڑھتے ہی گئے عشقِ طلب گار کے اور راس آئی اُسے بازارِ وفا کی تیزی پھر کسی رخصتِ تازہ کی خبر دیتی ہے سرد موسم کے تناظر […]

نہ ملے تم، تو ملا کوئی تمہارے جیسا

فائدہ عشق میں دیکھا ہے خسارے جیسا موج اڑاتی ہوئی مخمور سمندر آنکھیں ڈھونڈتی رہ گئیں اک شخص کنارے جیسا عشق حیراں ہے ابھی پہلی نظر کے مانند حسن ابھی تک ہے وہ خاموش نظارے جیسا اک دھنک میرے تصور کو بنا رکھتا ہے اُن لبوں پر جو تبسم ہے اشارے جیسا وہ کہیں میرا […]

لوگوں نے ایک واقعہ گھر گھر بنا دیا

اُس کی ذرا سی بات کا دفتر بنا دیا پہرے قیامتوں کے لگا کر زبان پر دل کو ترے خیال نے محشر بنا دیا صادق تھے ہم بھی جذبۂ منزل میں اس قدر رستے کا ہر سراب سمندر بنا دیا لے لے کے نقشِ بندگی دہلیز سے تری ہم نے جبین عشق کا زیور بنا […]

پھر کسی آئنہ چہرے سے شناسائی ہے

عاشقی اپنے تماشے کی تمنائی ہے مہربانی بھی مجھے اب تو ستم لگتی ہے اک بغاوت سی رَگ و پے میں اُتر آئی ہے سنگِ برباد سے اٹھتا ہے عمارت کا خمیر خاکِ تخریب میں پوشیدہ توانائی ہے عصرِ حاضر کے مسائل ہوئے بالائے حدود اب نہ آفاقی رہا کچھ، نہ علاقائی ہے مسئلے دھرتی […]

تارہ تارہ بکھر رہی ہے رات

دھیرے دھیرے سے مر رہی ہے رات ہاتھ میں کاسۂ فراق لئے سر جھکائے گزر رہی ہے رات کتنی تنہا فضا ہے گلیوں کی سرد آہیں سی بھر رہی ہے رات میری آوارگی کے پہلو میں کو بکو در بدر رہی ہے رات اک دریچے سے راہ تکتی ہے سہمی سہمی ہے، ڈر رہی ہے […]

جانے کتنے راز چھپے ہیں ٹھہرے ٹھہرے پانی میں

کون اُتر کر دیکھے اب اس یاد کے گہرے پانی میں جل پریوں کی خاموشی تو منظر کا ایک دھوکا ہے فریادوں کا شور مچا ہے اندھے بہرے پانی میں کوئی سیپ اُگلتی ہے موتی اور نہ موجیں کوئی راز حرص و ہوا کے ایسے لگے ہیں چار سُو پہرے پانی میں جھیل کے نیلے […]

مٹی سے پیار کر تو نکھر آئے گی زمین

دامن میں بھر کے اپنے ثمر آئے گی زمین نیچے اتر خلاؤں سے لوگوں کے دکھ سمیٹ شمس و قمرسے بڑھ کے نظر آئے گی زمین کشتی کے آسرے کو ڈبو کر تو دیکھ تُو پانی کے درمیان اُبھر آئے گی زمین بٹ جائیں گی محبتیں لوگوں کیساتھ ساتھ روٹی کے مسئلے میں اگر آئے […]