دو دل جلے باہم جلے تو روشنی ہوئی

کچھ وہ جلا، کچھ ہم جلے تو روشنی ہوئی اتنا بڑھا کچھ حبسِ جاں کہ بجھ گئے خیال کچھ دَر کھلے کچھ غم جلے تو روشنی ہوئی کل رات گھر کی تیرگی دل میں اُتر گئی دو دیدۂ پُر نم جلے تو روشنی ہوئی اُلجھے ہوئے احساس نے دھندلا دیا شعور جذبوں کے پیچ و […]

تری زلف سمجھی اشارہ ہوا کا

بہت اوج پر ہے ستارہ ہوا کا کماں کھنچ گئی ہے دھنک کی فضا میں شعاعوں نے رستہ نکھارا ہوا کا چراغوں سے ہے ربط فانوس جیسا تو پھولوں سے رشتہ ہمارا ہوا کا ملا یوں توازن ہمیں گردشوں سے پرندے کو جیسے سہارا ہوا کا خزاں زاد پتّوں پہ لکھ کر فسانے لو آیا […]

ہوائے مہر و محبت سوادِ جاں سے چلے

فصیلِ درد گرائے جہاں جہاں سے چلے ہوا ہے شہر میں دستورِ مصلحت کا نفاذ کوئی تو رسمِ جنوں بزمِ عاشقاں سے چلے وصال و ہجر کے موسم گزر چکے ہیں سبھی سو آج ہم بھی تری بزمِ امتحاں سے چلے وہ مرحلے تری جانب جو طے کئے تھے کبھی بھُلا کے ہم تری خاطر […]

ڈرتا ہوں کسی دن نظروں کا دھوکا نہ کہیں ہو جاؤ تم

تعبیر سمجھتا ہوں تم کو، سپنا نہ کہیں ہو جاؤ تم ہر روز بدلتے ہو منزل، ہر سمت میں چلتے ہو کچھ دیر خواہش کے سفر میں رستے کا حصہ نہ کہیں ہو جاؤ تم افسانے کچھ اپنے عنواں کے برعکس بھی نکلا کرتے ہیں چہروں کی کتابیں پڑھتے ہو، ضایع نہ کہیں ہو جاؤ […]

اے وقت ذرا تھم جا، یہ کیسی روانی ہے

آنکھوں میں ابھی باقی اک خوابِ جوانی ہے کیا قصہ سنائیں ہم اس عمرِ گریزاں کا فرصت ہے بہت تھوڑی اور لمبی کہانی ہے اک راز ہے سینے میں، رکھا نہیں جاتا اب آ کر کبھی سن جاؤ اک بات پرانی ہے سچے تھے ترے وعدے، سچے ہیں بہانے بھی بس ہم کو شکایت کی […]

ضبطِ غم توڑ گئی بھیگی ہوا بارش میں

دل کہ مٹی کا گھروندا تھا گرا بارش میں شادیِ مرگ کو کافی تھا بس اک قطرۂ آب شہر تشنہ تو اجڑ سا ہی گیا بارش میں روشنی دل میں مرے ٹوٹ کے رونے سے ہوئی اک دیا مجھ میں عجب تھا کہ جلا بارش میں لاج رکھ لی مرے پندار کی اک بادل نے […]

معیار ہے سخن تو حوالہ نہ دیکھئے

شاخِ ہنر کو دیکھئے، شجرہ نہ دیکھئے شاید اسی طرح مجھے پہچان جائیں آپ لہجے کا رنگ دیکھئے، چہرہ نہ دیکھئے رستے ہیں میرے گھر کے محبت کے راستے دل کی کتاب کھولئے، نقشہ نہ دیکھئے سینہ ہے داغ داغ مگر دل تو صاف ہے گھر دیکھئے جناب، علاقہ نہ دیکھئے دیواریں پڑھ رہے ہیں […]

زخم ہائے جاں لئے مرہموں کی آس میں

کب سے چل رہا ہوں میں دہرِ ناسپاس میں چلتے چلتے خاک تن ہو گیا ہوں خاک میں تار ایک بھی نہیں اب قبا کے چاک میں دل نشان ہو گیا ایک یاد کا فقط رہ گئی ہے آنکھ میں ایک دید کی سکت زہر جو ہوا میں تھا آ گیا ہے سانس میں ذہن […]

منظر سے ہٹ گیا ہوں میں، ایسا نہیں ابھی

ٹوٹا تو ہوں ضرور، پہ بکھرا نہیں ابھی وہ بھی اسیرِ فتنۂ جلوہ نمائی ہے میں بھی حصارِ ذات سے نکلا نہیں ابھی آسودۂ خمار نہیں مضمحل ہے آنکھ جو خواب دیکھنا تھا وہ دیکھا نہیں ابھی داغ فراقِ یار کے پہلو میں یاس کا اک زخم اور بھی ہے جو مہکا نہیں ابھی نومیدیِ […]