قربت سے ناشناس رہے ، کچھ نہیں بنا

خوش رنگ ، خوش لباس رہے ، کچھ نہیں بنا ہونٹوں نے خود پہ پیاس کے پہرے بٹھا لئے دریا کے آس پاس رہے ، کچھ نہیں بنا اب قہقہوں کے ساتھ کریں گے علاجِ عشق ہم مدتوں اداس رہے ، کچھ نہیں بنا جس روز بے ادب ہوئے ، مشہور ہوگئے جب تک سخن […]

اک روز پتلیوں سے ہٹا دی گئی تھی نیند

تھوڑی سی عمر ، تھوڑی گھٹا دی گئی تھی نیند مجھ کو کہا گیا کہ یہ آنکھوں کا رزق ہیں دیمک تھے خواب جن کو چٹا دی گئی تھی نیند ہم کند ذہن لوگ جنہیں یاد کچھ نہ تھا فرصت کے روز و شب میں رٹا دی گئی تھی نیند آنکھوں پہ سود اتنا بصارت […]