قربت سے ناشناس رہے ، کچھ نہیں بنا
خوش رنگ ، خوش لباس رہے ، کچھ نہیں بنا ہونٹوں نے خود پہ پیاس کے پہرے بٹھا لئے دریا کے آس پاس رہے ، کچھ نہیں بنا اب قہقہوں کے ساتھ کریں گے علاجِ عشق ہم مدتوں اداس رہے ، کچھ نہیں بنا جس روز بے ادب ہوئے ، مشہور ہوگئے جب تک سخن […]