رموزِ عشق مل جائیں ، کوئی حرفِ دعا آئے

ترے بچھڑے ہوؤں کو ہجر میں جینا ذرا آئے تھمے گردش ہی پاؤں کی اگر منزل نہیں ملتی نہ رکنے کا سبب نکلے نہ کوئی راستہ آئے وگرنہ حبس کی شدت سے دھڑکن بند ہوجاتی یہ روزن دل میں رکھا ہے کہ کچھ تازہ ہوا آئے مجھے روٹھے ہوئے کی خیریت معلوم کرنی ہے جو […]

سڑکوں پہ لگنے والی عدالت کے ذمے دار

منصف ہیں شہر بھر کی ذلالت کے ذمے دار تو چھوڑ ہر کسی کو چلا آ ہمارے پاس ہم ہیں ناں درد ! تیری کفالت کے ذمے دار اندر جو کشمکش تھی وہی مجھ کو کھا گئی موسم نہیں ہیں میری علالت کے ذمے دار آنکھوں سے لڑ رہے تھے کہ تعبیر بھی ملے کچھ […]