اسے خبر ہے وہ جب جب گریز کرتا ہے
فشارِ خون کو یہ کرب تیز کرتا ہے
معلیٰ
فشارِ خون کو یہ کرب تیز کرتا ہے
ترے بچھڑے ہوؤں کو ہجر میں جینا ذرا آئے تھمے گردش ہی پاؤں کی اگر منزل نہیں ملتی نہ رکنے کا سبب نکلے نہ کوئی راستہ آئے وگرنہ حبس کی شدت سے دھڑکن بند ہوجاتی یہ روزن دل میں رکھا ہے کہ کچھ تازہ ہوا آئے مجھے روٹھے ہوئے کی خیریت معلوم کرنی ہے جو […]
منصف ہیں شہر بھر کی ذلالت کے ذمے دار تو چھوڑ ہر کسی کو چلا آ ہمارے پاس ہم ہیں ناں درد ! تیری کفالت کے ذمے دار اندر جو کشمکش تھی وہی مجھ کو کھا گئی موسم نہیں ہیں میری علالت کے ذمے دار آنکھوں سے لڑ رہے تھے کہ تعبیر بھی ملے کچھ […]
کبھی پالی نہیں یاقوت اور مرجان کی خواہش بڑے خوابوں کو لازم تو نہیں آنکھیں بڑی کومل کیاری سے میں پوری کررہی ہوں لان کی خواہش
میں چاہتی ہوں اندھیروں کا قتل عام کروں
بچ گئیں آنکھیں اگر تو , دیکھنا ! دیکھیں گے خواب
خون ارزاں ہوا ہے پانی سے
ابھی تو سیکھ کے آئی تھی دیکھنے کا ہنر
مرے ٹکڑے کہیں ہیں ، میں کہیں ہوں
تھا جواں مرد ، جوانمرد بھی ایسا ویسا