فرشتہ تو نہیں انسان ہوں میں
کلیمِ عشق کا دربان ہوں میں مرے دِل میں سمایا عشقِ ربی ظفرؔ عشاق کی پہچان ہوں میں
معلیٰ
کلیمِ عشق کا دربان ہوں میں مرے دِل میں سمایا عشقِ ربی ظفرؔ عشاق کی پہچان ہوں میں
رفو کر دے دریدہ میرا داماں ظفرؔ کو کر عطا رزقِ فراواں بنا دے اُس کو ہم دردِ غریباں
خدائے پاک کی جود و سخا اللہ اکبر کرم رب کا، عطائے کبریا اللہ اکبر خدائی کا یہ پیہم سلسلہ اللہ اکبر
نہ خوف جور و استبداد رکھنا دلِ مضطر ظفرؔ یوں شاد رکھنا سدا دِل میں خدا کی یاد رکھنا
نہ پہنچیں گر حبیبِ کبریا تک خدا تک راہبر ہیں، رہنما ہیں وہ پہنچاتے ہیں انساں کو خدا تک
کرم اُس کا سدا جاری و ساری کرے ابرِ کرم سے آبیاری چلائے حبس میں بادِ بہاری
رسولِ پاک کی مِدحت، خدا کا حکم ہے یہ کرو انسان کی خدمت، خدا کا حکم ہے یہ کرو جاری سخاوت، خدا کا حکم ہے یہ
ثمر، غنچہ و گل، تازہ ہوا ہیں کوئی اِن کو ظفرؔ جھٹلائے کیسے خدا کی نعمتیں بے انتہا ہیں
مرا خدا انیس ہے، مرا خدا کریم ہے مرا خدا غفور ہے، مرا خدا حلیم ہے مرا خدا عظیم ہے، مرا خدا عظیم ہے
لباس صلح کرانے میں پھٹ بھی سکتا ہے تم اپنے کرب کا اظہار کر بھی سکتی ہو پیاز کاٹ کر یہ وقت کٹ بھی سکتا ہے تو جس کی فتح کے نعرے لگانا چاہتا ہے خراج لے کے وہ لشکر پلٹ بھی سکتا ہے ہے اختیار میں تھوڑی گناہ عالم وجد کسی سے آدمی جا […]