جذباتِ نو پر جوانی تھی ، وہ ہے
مرقوم جو اعجاز بیانی تھی ، وہ ہے اظہارِ کمالات زبانی نہ سہی پہلے جو طبیعت میں روانی تھی ، وہ ہے
معلیٰ
مرقوم جو اعجاز بیانی تھی ، وہ ہے اظہارِ کمالات زبانی نہ سہی پہلے جو طبیعت میں روانی تھی ، وہ ہے
تو واقفِ اسرارِ جہاں ہے کہ نہیں ہر حق کہ زیاں جرم ہے اور سود حرام جائز بھی کوئی چیز یہاں ہے کہ نہیں
منہ دیکھیں گے اب مرگ و لحد کا کیونکر پیری میں سکت بھی نہیں دنداں بھی نہیں کاٹیں گے ہم اب عمر کا رشتہ کیونکر
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا تمام اسرارِ الفت کا بیاں بھی جرم ہے حیدرؔ کچھ اپنے دل میں رکھ لینا کچھ افسانے میں رکھ دینا
قسمت زمیں ملی ہے مزاج آسماں مجھے
ظرف کے فرق سے آواز بدل جاتی ہے
بہار آ کر چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی
ہائے کیا بات کہہ کے ٹال دیا
ثبوتِ زندگی دیں اور ہم کیا؟
ورنہ دیوانے کی مٹھی میں بیاباں ہوتا