اردوئے معلیٰ

یہ کیا دستِ اجل کو کام سونپا ہے مشیت نے

چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا

تمام اسرارِ الفت کا بیاں بھی جرم ہے حیدرؔ

کچھ اپنے دل میں رکھ لینا کچھ افسانے میں رکھ دینا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ