میں آسماں پہ جا کے بھی تارے نہ لا سکا
تم بھی ہوئے اداس ، مری بات بھی گئی
معلیٰ
تم بھی ہوئے اداس ، مری بات بھی گئی
سورج تمام وقت مجھے گھورتا رہا
وہ تو مرے دشمن نے پہچان لیا مجھ کو
عین ممکن ہے کہ مجھ میں ہی خرابی نکلے
عرفانِ ذات بھی نہ ہوا ، رات بھی گئی
کچھ دے دلا کے حال کو ماضی بنا دیا
اس حادثے نے ہم کو نمازی بنا دیا
میں لگا پتھر کو پہلے ، پھر مجھے پتھر لگا
ہاں لوگ ہی ایسے تھے کہ آباد نہیں تھے
ذریعہ خود نکل آتا ہے منزل تک رسائی کا