کبھی پھول سے اُبھر کے ، کبھی چاندنی میں ڈھل کے

ترا حسن چھیڑتا ہے مجھے رُخ بدل بدل کے میں نظر کو روک بھی لوں ، میں خیال کا کروں کیا مرے دل میں آ نہ جائے کوئی راستہ بدل کے یہ جہانِ آب و گِل ہے ، یہیں کائناتِ دل ہے کبھی اس طرف بھی آ جا مہ و کہکشاں سے چل کے مرا […]

تیرے جلووں کا ہجوم اور کدھر جائے گا

یہ گلستاں تو مرے دل میں اتر جائے گا ایک لمحے کو تجھے دیکھ کے میں سمجھا تھا وقت کے ساتھ یہ لمحہ بھی گزر جائے گا میں دعا گو ہوں سلامت رہے یہ رنگِ جمال رنگ پھر رنگ ہے اک روز بکھر جائے گا ہاں! مرے دل کو نہ راس آئے گا زندانِ بہار […]