اک لمحۂ نشاط کی یہ سرگرانیاں
اچھا ہوا کہ سامنے دیوار و در نہ تھے
معلیٰ
اچھا ہوا کہ سامنے دیوار و در نہ تھے
ستم گر حیلہ جُو اب تو یہ صبح و شام رہنے دے
ہر قدم پر ہے اسی کا راستہ لکھا ہوا
اک دشتِ کربلا مری تنہائیوں میں ہے
ترا حسن چھیڑتا ہے مجھے رُخ بدل بدل کے میں نظر کو روک بھی لوں ، میں خیال کا کروں کیا مرے دل میں آ نہ جائے کوئی راستہ بدل کے یہ جہانِ آب و گِل ہے ، یہیں کائناتِ دل ہے کبھی اس طرف بھی آ جا مہ و کہکشاں سے چل کے مرا […]
یہ گلستاں تو مرے دل میں اتر جائے گا ایک لمحے کو تجھے دیکھ کے میں سمجھا تھا وقت کے ساتھ یہ لمحہ بھی گزر جائے گا میں دعا گو ہوں سلامت رہے یہ رنگِ جمال رنگ پھر رنگ ہے اک روز بکھر جائے گا ہاں! مرے دل کو نہ راس آئے گا زندانِ بہار […]
کیا فائدہ اس دور میں فریاد و فغاں سے
یہ رسم حسن میرے گریباں سے چلی ہے
چمن چمن میں یونہی صبح و شام ہوتی رہی
اس دور سے کیا چاہیں ، اس عہد سے کیا مانگیں اب خونِ رگِ جاں بھی قاصر ہے چہکنے سے اربابِ جنوں کس سے جینے کی ادا مانگیں