میں محبت ہوں، مجھے آتا ہے نفرت کا علاج
تم ہر اک شخص کے سینے میں مرا دل رکھ دو
معلیٰ
تم ہر اک شخص کے سینے میں مرا دل رکھ دو
ہمارے قطرۂ خوں کا حساب تک نہ ملا
وقت کی صلیبوں پر خوں ہوا ہزاروں کا
اس نے بخشی ہم کو تنہائی بہت دستکوں کا کیا، بھروسہ کیجئے دستکیں ہوتی ہیں ہرجائی بہت
ناداں اتنا جان نہ پایا منزل تھی دو گام کے بعد
مگر اک وصف ہے مجھ میں دل آزاری نہیں کرتا
یہ وہ اڑتے ہوئے بادل ہیں جو سایا نہیں کرتے
اکثر ہوئی مشیت مجبور آدمی سے
حق ، حق ہے تو ہر حال میں اظہار کیا جائے
ہم تو وہ کونپل ہیں جو پتھر سے نکلے ہیں