جو کم نگاہ تھے وہی اہلِ نظر بنے
ہم کو ہمارے دیدۂ بینا سے کیا ملا
معلیٰ
ہم کو ہمارے دیدۂ بینا سے کیا ملا
اک نسل مطمئن ہے مگر اک اداس ہے
میرے لیے تو بادِ صبا ہو گیا وہ شخص
یہ زباں میری نہیں ہے نہ یہ لہجہ میرا
ہم کو بہارِ صبحِ تمنا سے کیا ملا
تلاشِ رزق کی خاطر جدھر جدھر بھی گئے
ہم التفاتِ دلِ دوستاں سے دور رہے
گملے کی طرح صحن میں رکھا ہوا کیوں ہوں؟
” میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں ”
جُدا ہوا ہے کوئی جیسے عمر بھر کے لیے