ویرانیٔ نگاہ اب اس انتہا پہ ہے
تیری ہنسی بھی جس کا مداوا نہ کر سکے
معلیٰ
تیری ہنسی بھی جس کا مداوا نہ کر سکے
ہم چھپاتے ہی رہے دل کا ملال
غمِ ہستی ترے خزینے میں
لیکن اتر بھی جاتے ہیں دریا چڑھے ہوئے
مری گمرہی کے ہزاروں مقام
کہ جب بھی دیکھو اسے دوسرا سا لگتا ہے تمہارا حسن کسی آدمی کا حسن نہیں کسی بزرگ کی سچی دعا سا لگتا ہے تیری نگاہ کو تمیزِ رنگ و نور کہاں مجھے تو خوں بھی رنگِ حنا سا لگتا ہے دماغ و دل ہوں اگر مطمئن تو چھاؤں ہے دھوپ تھپیڑا لُو کا بھی […]
ابھی زمین کے لیے آسمان کچھ کم ہے جو اس خیال کو بھولے تو مارے جاؤ گے کہ اپنی سمت قیامت کا دھیان کچھ کم ہے ہمارے شہر میں خیر و عافیت ہے مگر یہی کمی ہے کہ امن و امان کچھ کم ہے بنا رہا ہے فلک بھی عذاب میرے لیے تیری زمین پہ […]
بہت مشکل تھا جینا اس کو آساں کر رہا ہوں میں
خوشیوں نے کبھی ہم کو پلٹ کر نہیں دیکھا ہاں خاک اڑاتے ہوئے موسم تو ملے ہیں موسم کی ہتھیلی پر گلِ تر نہیں دیکھا یوں مجھ سے کوئی میرا پتا پوچھ رہا ہے اس نے کبھی جیسے کہ میرا گھر نہیں دیکھا دیکھا ہے ابھی چاند نکلتے ہوئے تم نے بپھرا ہوا بے چین […]
کتنا ہی اپنے جسم کو تو خوش لباس رکھ