چھت دھوپ کی ہے اور در و دیوار درد کے
وعدوں کا یہ مکان بڑا خوشنما سا ہے
معلیٰ
وعدوں کا یہ مکان بڑا خوشنما سا ہے
راہِ خدا میں صاحبِ ایثار آ گئے جو خوش تھے زیرِ سایۂ دیوار آ گئے بیزار ہم تھے ، زیست سے بیزار آ گئے اس آس میں کہ آئے گا رحمت کو اُس کی جوش ظلمت میں روشنی کے طلبگار آ گئے بازارِ سیم و زر ہے کہ بازارِ حسن ہے پل بھر میں دیکھو […]
اور جو کرم کیا وہ خدا کی طرح لگا بے چین دل و دماغ ، پریشان آنکھ نم گذرا جو آج دن وہ سزا کی طرح لگا ہے کون اور آیا کہاں سے خبر نہیں وہ دیکھنے میں اہلِ وفا کی طرح لگا چھوٹا سا اک پہاڑ ہے جو میرے گاؤں میں مجھ کو عزیز […]
ہے ازل سے دوستانہ خاک سے آپ کے چہرے پہ رونق ہے بہت کیا کوئی نکلا خزانہ خاک سے میں کسی کا بھی رہوں محتاج کیوں پا رہا ہوں آب و دانہ خاک سے اک قدم بھی کیا اٹھے اس کے بغیر چل رہا ہے یہ زمانہ خاک سے زہر بھر دے جو تمہارے خون […]
کبھی ہے موم کبھی خشت و سنگ ہے دنیا
بچوں کے سسکنے کی آواز نہیں آتی
اب زندگی کو مجھ سے شکایت نہیں رہی
وہ شخص جس کے ہاتھ میں کوئی ہنر نہیں
ساحرؔ کو زمانے سے شکایت بھی بہت ہے
شاید مری دنیا میں چمکے گا نیا سورج