حق بات کرنے والے سرِ دار آ گئے

راہِ خدا میں صاحبِ ایثار آ گئے جو خوش تھے زیرِ سایۂ دیوار آ گئے بیزار ہم تھے ، زیست سے بیزار آ گئے اس آس میں کہ آئے گا رحمت کو اُس کی جوش ظلمت میں روشنی کے طلبگار آ گئے بازارِ سیم و زر ہے کہ بازارِ حسن ہے پل بھر میں دیکھو […]

ہر ایک لفظ اُس کا دعا کی طرح لگا

اور جو کرم کیا وہ خدا کی طرح لگا بے چین دل و دماغ ، پریشان آنکھ نم گذرا جو آج دن وہ سزا کی طرح لگا ہے کون اور آیا کہاں سے خبر نہیں وہ دیکھنے میں اہلِ وفا کی طرح لگا چھوٹا سا اک پہاڑ ہے جو میرے گاؤں میں مجھ کو عزیز […]

آدمی کا ہے فسانہ خاک سے

ہے ازل سے دوستانہ خاک سے آپ کے چہرے پہ رونق ہے بہت کیا کوئی نکلا خزانہ خاک سے میں کسی کا بھی رہوں محتاج کیوں پا رہا ہوں آب و دانہ خاک سے اک قدم بھی کیا اٹھے اس کے بغیر چل رہا ہے یہ زمانہ خاک سے زہر بھر دے جو تمہارے خون […]