سائے کی جستجو میں کہاں دربدر پھروں
کھڑکی سے تو بھی گھر میں مرے آ رہی ہے دھوپ
معلیٰ
کھڑکی سے تو بھی گھر میں مرے آ رہی ہے دھوپ
وہ آدمی کا عکس ہے اصل بشر نہیں
کیا دوستوں کے واسطے کرتا نہیں ہوں میں
ڈبو دیتا ہمیں یہ موجۂ طوفاں تو اچھا تھا اضافہ کر دیا پرسش نے زخمِ دل کی ٹیسوں میں نہ کرتے وہ ہمارے درد کا درماں تو اچھا تھا نہ ذہن و دل پہ یہ افسردگی سایہ فگن ہوتی بھلا دیتا جو ماضی کو دلِ ناداں تو اچھا تھا مصائب بعد میں جب سامنے آئے […]
اب دل تہہِ گردابِ الم ہے بھی نہیں بھی بے ربطیِ احساسِ کرم ہے بھی نہیں بھی اب ان کی محبت کا بھرم ہے بھی نہیں بھی وہ ترکِ محبت پہ کئی دن سے مُصر تھے اب ان سے بچھڑنے کا الم ہے بھی نہیں بھی آتے ہیں تو پلکوں پہ ٹھہرتے نہیں آنسو اب […]
ہمارے پاس ہو کر بھی نہیں گزری خوشی برسوں خرد مندوں نے کی اہلِ جنوں کی رہبری برسوں کہ فرزانے رہے منت کشِ دیوانگی برسوں ہمیشہ عشق کی بدقسمتی پر ہم رہے گریاں ہمارے حال پر گریاں رہی بدقسمتی برسوں تعجب ہے کہ برسوں گلستاں کی یاد میں تڑپے تعجب ہے نہ آئی گلستاں کی […]
ترتیب ہی اُس بزم کا مقسوم نہیں ہے ہم اہلِ وفا جادۃٔ الفت کے لیے ہیں اے رہبرِ منزل تجھے معلوم نہیں ہے گو سلسلہِ مہر و وفا ختم ہے ، لیکن دل ان کی عنایات سے محروم نہیں ہے پیدا تو کرے کوئی شعورِ نگہِ شوق جلووں کی کمی اے دلِ مغموم نہیں ہے […]
دوستوں سے میرے دشمن کہیں بہتر نکلے
بجلی چمک رہی ہے گلستاں سے دور دور
رونے کا سلیقہ مجھے معلوم نہیں ہے