آتے ہیں تو پلکوں پہ ٹھہرتے نہیں آنسو
اب دامنِ مژگاں مرا نم ہے بھی ، نہیں بھی
معلیٰ
اب دامنِ مژگاں مرا نم ہے بھی ، نہیں بھی
تجھ کو اے گردشِ ایام دعا دیتا ہوں
ہم خون رو چکے ہیں محبت کی راہ میں
ہر قدم پر تری یادوں کے نشاں ملتے ہیں
ہم شبِ ہجر میں تڑپے ہیں سحر ہونے تک
ہوتا ہے میرا دل بھی گلستاں کبھی کبھی اس کشتیٔ شکستہ کو حسرت سے دیکھ کر آیا ہے یاد منظرِ طوفاں کبھی کبھی صورت بدل گئی ہے غمِ روزگار کی بکھری ہے یوں بھی زلفِ پریشاں کبھی کبھی کتنی ہی راتیں میں نے بنائیں سدا بہار آغوش میں رہا مہِ تاباں کبھی کبھی بھٹکا رہا […]
اک تحیر بھری فغاں ہوں میں خوشہ چینانِ عیش پھرتے ہیں محوِ نیرنگِ گلستاں ہوں میں یوں تری آرزو مہکتی ہے جیسے پھولوں کے درمیاں ہوں میں غم نہ کر اس جہانِ تیرہ میں چاندنی! تیرا پاسباں ہوں میں اے اسیرانِ شب بغور سنو اس کی زلفوں کی داستاں ہوں میں
پا بہ جولاں بہار ہوتے تھے ہائے وہ رات جب ترے گیسو سانس میں مشکبار ہوتے تھے ہائے وہ صبح جب ترے عارض قاصدانِ بہار ہوتے تھے ہائے جب گردنِ محبت میں آرزؤں کے ہار ہوتے تھے ملگجی چاندنی کے سائے میں وقفِ صد انتظار ہوتے تھے آج مرجھا گیا ہے اپنا دل ہم خدائے […]
مدّعائے صبا خدا معلوم
اُن کے ہونٹوں کی بات ہوتی ہے