اُن کی چلتی تو حضرتِ زاہد
ہر تبسم حرام کر دیتے
معلیٰ
ہر تبسم حرام کر دیتے
خلشِ نوکِ خار باقی ہے تم کو دیکھا ، ہنسا ، پر آنکھوں میں اشکِ بے اختیار باقی ہے
جیسے پھولوں کے درمیاں ہوں میں
ہم خدائے بہار ہوتے تھے
ہم آج تک ہیں راہ میں رہبر لیے ہوئے
اُبھارا کس لیے دنیا میں تو نے ذوقِ عصیاں کو
اک عمر اسی راہ میں برباد رہیں گے
کوششِ ضبط پہ بھی آہ نکل جاتی ہے پھر پلٹ کر نہیں آتی یہ سمجھ لے پیارے دل سے اک بار اگر چاہ نکل جاتی ہے
عزمِ بلند و ہمتِ مردانہ چاہیے
ہائے کیا زندگی ہماری ہے