اہلِ جنوں نے ریت گلا کر جب شیشہ تیار کیا
اہلِ خرد سے کچھ نہ بنا ، تو پتھر لے کر دوڑ پڑے
معلیٰ
اہلِ خرد سے کچھ نہ بنا ، تو پتھر لے کر دوڑ پڑے
یہ کام بھی خاصانِ حرم کرتے رہیں گے ہم دل کے مہکتے ہوئے زخموں کے سہارے تاریخ تبسم کی رقم کرتے رہیں گے
کوہ سے نیچے اتر آئے ، تو پیغمبر لگے
کس کو پوجیں کہ خدا ساز صنم اتنے ہیں اب کوئی اُٹھے بہ اندازِ دگر تیشہ بدست کاٹے کٹتے ہیں نہیں کوہِ الم اتنے ہیں تازہ احسانِ ستم ، طُرفہ عنایت ہے تری ورنہ ہونے کو ترے لطف و کرم اتنے ہیں یہ بھی کیا کم ہے کہ جینے کی طرح جیتا ہوں ورنہ مرنے […]
ہم دار تک گئے یہ ہمارا نصیب تھا میرے ہی حسنِ شوق نے رسوا کیا مجھے میرا جنونِ عشق ہی میرا رقیب تھا اب تک ہے جان و دل پہ مصیبت بنی ہوئی وہ حادثۂ زیست بھی کتنا عجیب تھا اوروں کو بارِ غم سے سبکدوش کر گیا وہ جس کے دوشِ عزم پہ بارِ […]
زندہ رہنے کی سزا دے گا مجھے زخم ہی زخم ہوں میں داغ ہی داغ کون پھولوں کی قبا دے گا مجھے میں سمجھتا ہوں زمانے کا مزاج وہ بنائے گا مٹا دے گا مجھے بے کراں صدیوں کا سناٹا ہوں میں کون سا لمحہ صدا دے گا مجھے ٹوٹ کر لوح و قلم کی […]
یوں تو ہونے کو یہاں اہلِ قلم اتنے ہیں
سنگ ساروں سے کہو ، مشقِ ستم فرمائیں
گلشن کی موجِ رنگ بھی ، صحرا کی گرد بھی
اِس کو اوڑھیں کہ بچھائیں یارو !