راہ چلیے تو یہاں دیر و حرم اتنے ہیں

کس کو پوجیں کہ خدا ساز صنم اتنے ہیں اب کوئی اُٹھے بہ اندازِ دگر تیشہ بدست کاٹے کٹتے ہیں نہیں کوہِ الم اتنے ہیں تازہ احسانِ ستم ، طُرفہ عنایت ہے تری ورنہ ہونے کو ترے لطف و کرم اتنے ہیں یہ بھی کیا کم ہے کہ جینے کی طرح جیتا ہوں ورنہ مرنے […]

ہونے کو آستانِ حرم بھی قریب تھا

ہم دار تک گئے یہ ہمارا نصیب تھا میرے ہی حسنِ شوق نے رسوا کیا مجھے میرا جنونِ عشق ہی میرا رقیب تھا اب تک ہے جان و دل پہ مصیبت بنی ہوئی وہ حادثۂ زیست بھی کتنا عجیب تھا اوروں کو بارِ غم سے سبکدوش کر گیا وہ جس کے دوشِ عزم پہ بارِ […]

اور کیا روز جزا دے گا مجھے

زندہ رہنے کی سزا دے گا مجھے زخم ہی زخم ہوں میں داغ ہی داغ کون پھولوں کی قبا دے گا مجھے میں سمجھتا ہوں زمانے کا مزاج وہ بنائے گا مٹا دے گا مجھے بے کراں صدیوں کا سناٹا ہوں میں کون سا لمحہ صدا دے گا مجھے ٹوٹ کر لوح و قلم کی […]