وعدۂ حشر ہے پھر وہ بھی زمانے بھر سے
کوئی دامن نہ پکڑ لے سرِ محشر دیکھو اُن کو دشمن سے جو اُلفت ہے پروا نہ کرو اے رساؔ تم بھی کسی اور پہ مر کر دیکھو
معلیٰ
کوئی دامن نہ پکڑ لے سرِ محشر دیکھو اُن کو دشمن سے جو اُلفت ہے پروا نہ کرو اے رساؔ تم بھی کسی اور پہ مر کر دیکھو
حشر سے پہلے ہی اک محشر بپا ہونے لگے
اگر مرضی تری اے کاتب تقدیر ایسی ہے بوقتِ ذبح قاتل کا بڑھایا دل یہ کہہ کر کہ تُو قاتل ہے ایسا اور تری شمشیر ایسی ہے
سیکھو ابھی طریقے کُچھ روز دلبری کے آئے اگر قیامت تو دھجّیاں اُڑا دیں پھرتے ہیں جستجو میں فتنے تری گلی کے
چیز رکھتا ہوں بھول جاتا ہوں
گلاب توڑ کے دُنیا کو شک میں ڈال دیا
دِیا جلانے کا مطلب ہے شام ہو چکی ہے
میں نے اک نام لکھا اور قلم توڑ دیا
خواب دیکھو تو زمانے سے الگ ہو جاؤ نیند میں حضرت یوسف کو اگر دیکھا ہے عین ممکن ہے گھرانے سے الگ ہو جاؤ
جتنے بھی خط ہم نے لکھے ، کاپیوں میں رہ گئے شہرِ ناقدراں کا تحفہ بھی نہ یکجا رکھ سکے زخم گھر تک لائے ، پتھر راستوں میں رہ گئے ہم تو خود اک سانولے منظر کے قیدی ہو گئے اور ہمارے تذکرے رنگیں رُتوں میں رہ گئے