پھول رخسار کو ، آنکھوں کو کنول ہی کہیے

اور جب کہیے بہ اندازِ غزل ہی کہیے موت ہر لمحہ قریب آتی ہے ہر سانس کے ساتھ سازِ انفاس کو بھی سازِ اجل ہی کہیے حسن آوارہ ہے ، بیگانہ ہے آرائش سے اس کی تعریف میں بے ربط غزل ہی کہیے دفن ہر قبر میں ہے حسرت و امید کی لاش کوئی مرقد […]

کیسے امیر کس کے گدا تاجدار کیا

دارالفنا میں جبر ہے کیا اختیار کیا وہ تیز دھوپ ہے کہ پگھلنے لگے ہیں خواب زلفوں کے سائے دیں گے فریب بہار کیا آباد کر خرابۂ ذہن و خیال کو شہروں میں ڈھونڈھتا ہے سکون و قرار کیا سمٹے تو مشت خاک ہے یہ آدمی کی ذات بکھرے تو پھر یہ عرصۂ لیل و […]

اپنے گھر ، اپنی دھرتی کی آس لئے بو باس لئے

جنگل جنگل گھوم رہا ہوں جنم جنم کی پیاس لئے جتنے موتی ، کنکر اور خذف تھے اپنے پاس لئے میں انجانے سفر پر نکلا ، مدھر ملن کی آس لئے کچی کاگر پھوٹ نہ جائے ، نازک شیشہ ٹوٹ نہ جائے جیون کی پگڈنڈی پر ، چلتا ہوں یہ احساس لئے وہ ننھی سی […]

بے اصولی اصول ہے پیارے

یہ تری کیا ہی بھول ہے پیارے کس زباں سے کروں یہ عرض کہ تو پرلے درجے کا فول ہے پیارے واہ یہ تیرا زرق برق لباس گویا ہاتھی کی جھول ہے پیارے تو وہ گل ہے کہ جس میں بو ہی نہیں تو تو گوبھی کا پھول ہے پیارے مجھ کو بلوائیو ڈنر کے […]

مجھ کو رخ کیا دکھا دیا تو نے

لیمپ گویا جلا دیا تو نے ہم نہ سنتے تھے قصۂ دشمن ریڈیو پر سنا دیا تو نے میں بھی اے جاں کوئی ہریجن تھا بزم سے کیوں اٹھا دیا تو نے گا کے محفل میں بے سُرا گانا مجھ کو رونا سکھا دیا تو نے کیا ہی کہنے ہیں تیرے دیدۂ تر ایک نلکہ […]