باتوں باتوں میں ملاقات کی شب بیت گئی
آج معلوم ہوئی وقت کی رفتار مجھے
معلیٰ
آج معلوم ہوئی وقت کی رفتار مجھے
ترے اصولوں کو توڑتے ہیں
پھرتا ہوں اپنے دل میں لیے خواہشیں بہت
جس تشنہ لب کا حق ہے اِسی کو یہ جام دو
ہم اپنے سامنے حیراں کھڑے ہیں مری آنکھیں تو پیاسی ہیں سحر کی ستارے کیوں اُترتے آ رہے ہیں نہیں، یہ خواب کا عالم نہیں ہے یہ سب منظر تو جیتے جاگتے ہیں دیارِ شب کے سنّاٹے میں ہم نے نگارِ صبح کے نغمے سُنے ہیں ابھی کچھ رنگ ہیں دِل بستگی کے ابھی کچھ […]
شاید ابھر رہا ہے کوئی ڈوبتا ہوا بیٹھا ہے عشق یوں سرِ منزل تھکا ہوا رستے میں جیسے کوئی مسافر لٹا ہوا کچھ دن سے رنگِ روئے جفا ہے اڑا ہوا اے خونِ آرزو تری سرخی کو کیا ہوا کیا منزلت ہے اپنی سرِ آستانِ دوست جیسے ہو راہ میں کوئی پتھر پڑا ہوا آنکھوں […]
ابھی اک اور نشتر کی ضرورت ہے رگِ جاں کو کبھی ہم نے بھی رنگ و نور کی محفل سجائی تھی کبھی ہم بھی سمجھتے تھے چمن اک رُوئے خنداں کو کبھی ہم پر بھی یونہی فصلِ گل کا سحر طاری تھا کبھی ہم بھی جنوں کا حق سمجھتے تھے گریباں کو کہیں ایسا نہ […]
کھینچ کر اک نقش اس پر سر جھکا دیتا ہوں میں
میں تو اک تنکا ہوں طوفانِ بلا کی راہ میں
کیا ہمارے پاس ہے ، کیا دیں خدا کی راہ میں