ساری دنیا کی نگاہوں سے گرا ہے مجذوبؔ
تب کہیں جا کے ترے دل میں جگہ پائی ہے
معلیٰ
تب کہیں جا کے ترے دل میں جگہ پائی ہے
کارواں ایسے بھی دیکھے جو ہوئے راہ کی دھول
شہروں کا رنگ اس پہ بھی چڑھتا ہوا ملا دیکھا تو اعتماد کے رشتے اداس تھے اپنوں سے آج اپنا بھی ڈرتا ہوا ملا چھوٹی سی کوٹھڑی میں بھرا گھر سمٹ گیا یوں خاندان شہر میں بستا ہوا ملا اس کے نئے فلیٹ کا کمرہ عجیب تھا سورج کی روشنی کو ترستا ہوا ملا سلجھانے […]
میری نگاہ میں بھی کوئی شاہکار تھا کمزور برگِ زرد بھی کیا پُروقار تھا جھونکا ہوا کا اس کی طرف بار بار تھا تقسیم تھی مکان کی دو بھائیوں کے بیچ سینہ ضعیف ماں کا غموں سے فگار تھا حیرت میں ہوں وہ کیسی کرامت دکھا گیا شفاف بن گیا جو کبھی داغدار تھا تجھ […]
ہم کبھی بھی نہ رہے عالمِ تنہائی میں
جو سایہ پھیلا ہوا ہے سمٹ بھی سکتا ہے
ہیں کتنے فسانے مرے اظہار کے پیچھے
دِیر کہتے ہیں کسے اور ہے کعبہ کیسا
دیکھنا تھا جس کو وہ دیکھا نہیں
پروردگار تجھ میں جو بخشش کی خُو نہ ہو