مدت پہ گاؤں پہنچا تو بدلا ہوا ملا

شہروں کا رنگ اس پہ بھی چڑھتا ہوا ملا دیکھا تو اعتماد کے رشتے اداس تھے اپنوں سے آج اپنا بھی ڈرتا ہوا ملا چھوٹی سی کوٹھڑی میں بھرا گھر سمٹ گیا یوں خاندان شہر میں بستا ہوا ملا اس کے نئے فلیٹ کا کمرہ عجیب تھا سورج کی روشنی کو ترستا ہوا ملا سلجھانے […]

میں بھی کسی کی راہِ طلب کا غبار تھا

میری نگاہ میں بھی کوئی شاہکار تھا کمزور برگِ زرد بھی کیا پُروقار تھا جھونکا ہوا کا اس کی طرف بار بار تھا تقسیم تھی مکان کی دو بھائیوں کے بیچ سینہ ضعیف ماں کا غموں سے فگار تھا حیرت میں ہوں وہ کیسی کرامت دکھا گیا شفاف بن گیا جو کبھی داغدار تھا تجھ […]