ہوا جو ظلم تو خاموش تھا ہر اک منظر
کہاں کسی کے کُھلے لب ، کوئی کہاں بولا تندور میں کبھی زندہ بدن جلائے گئے زباں کوئی نہ کُھلی تھی مگر دھواں بولا
معلیٰ
کہاں کسی کے کُھلے لب ، کوئی کہاں بولا تندور میں کبھی زندہ بدن جلائے گئے زباں کوئی نہ کُھلی تھی مگر دھواں بولا
غمِ معاش نے گھر سے نکال رکھا ہے ہمارے بچے غموں سے ہیں بے نیاز ابھی ابھی یہ مورچہ ہم نے سنبھال رکھا ہے
میں نیک کام کر کے گنہگار ہو گیا کل خوب قتلِ عام ہوا اُن کی بزم میں اُٹھنا نگاہِ ناز کا تلوار ہو گیا جلوے کے سامنے تمہیں اپنی خبر نہ تھی موسیٰؑ یہ کیسے مان لوں دیدار ہو گیا شرما کے منہ چھپانے لگا بادلوں میں چاند کل شب جو بے نقاب رُخِ یار […]
یہ کون دل میں در آیا ہے گھر بناتے ہوئے نشیب چشم تماشا بنا گیا مجھ کو کہیں بلندی ایام پر بناتے ہوئے میں کیا کہوں کہ ابھی کوئی پیش رفت نہیں گزر رہا ہوں ابھی رہ گزر بناتے ہوئے کسے خبر ہے کہ کتنے نجوم ٹوٹ گرے شب سیاہ سے رنگ سحر بناتے ہوئے […]
کہیں کیا سلسلہ دل کا کہاں پر جا نکلتا ہے مژہ تک آتا جاتا ہے بدن کا سب لہو کھنچ کر کبھی کیا اس طرح بھی یاد کا کانٹا نکلتا ہے دکان دل بڑھاتے ہیں حساب بیش و کم کر لو ہمارے نام پر جس جس کا بھی جتنا نکلتا ہے ابھی ہے حسن میں […]
اگرچہ ایک زمانہ ہے دیکھنے کے لیے کوئی نہیں جو ورائے نظر بھی دیکھ سکے ہر ایک نے اسے دیکھا ہے دیکھنے کے لیے بدل رہے ہیں زمانے کے رنگ کیا کیا دیکھ نظر اٹھا کہ یہ دنیا ہے دیکھنے کے لیے ذرا جو فرصت نظارگی میسر ہو تو ایک پل میں بھی کیا کیا […]
بہت کٹھن ہے خزاں کے ماتھے پہ داستان گلاب لکھنا میں جب چلوں گا تو ریگزاروں میں الفتوں کے کنول کھلیں گے ہزار تم میرے راستوں میں محبتوں کے سراب لکھنا فراق موسم کی چلمنوں سے وصال لمحے چمک اٹھیں گے اداس شاموں میں کاغذ دل پہ گزرے وقتوں کے باب لکھنا وہ میری خواہش […]
میں اپنے زخم نمودار کرنے لگتا ہوں
گزر رہا ہوں ابھی رہگزر بناتے ہوئے
ایک ہی صورت جھانک رہی ہے صدیوں کی ویرانی سے