تھا یہ محبت کا اثر، آدھا اِدھر‘ آدھا اُدھر

بٹ کر رہا دردِ جگر، آدھا اِدھر‘ آدھا اُدھر آئین میں ترمیم کر، انصاف سے تقسیم کر! جنسِ وفا، حسنِ نظر، آدھا اِدھر‘ آدھا اُدھر شاداب کِشتِ حُسن ہو، سیراب ذوقِ عشق ہو دریا بہا اے چشمِ تر، آدھا اِدھر‘ آدھا اُدھر ابرِ کرم کھل کر برس، کھل کر برس، اب کے برس ہر دشت […]

چیختے ہیں مفلس و نادار آٹا چاہئے

لکھ رہے ہیں ملک کے اخبار آٹا چاہئے از کلفٹن تابہ مٹروپول حاجت ہو نہ ہو کھارا در سے تابہ گولی مار آٹا چاہئے مرغیاں کھا کر گزارہ آپ کا ہوجائے گا ہم غریبوں تو تو اے سرکار، آٹا چاہئے ہم نے پاؤڈر کا تقاضا سن کے بیگم سے کہا کیا کرو گی غازۂ رخسار، […]

میں سجّے ہتھ کو بیٹھا تھا ادھر بازار کے وچ میں

وہ کبھّے ہتھ سے میرے کول گذرے کار کے وچ میں اکیلے تو نہیں ملتے جدوں بھی اب وہ ملتے ہیں کبھی چھ سات کے وچ میں کبھی دوچار کے وچ میں میں بولا، بادشاہو! میری اِک چھوٹی سی گَل سُن لو وہ بولے، چھڈو جی! کیا گل سنیں بازار کے وچ میں لبوں کے […]