طُوفانی رات کے چند شعر

رفتہ رفتہ رات آئی بڑھ گیا پُروا کا شور بادلوں کی فوج نے مل کر مچایا اک شور پھر ذرا سی دیر میں جھکڑ چلا اک زور کا پیش خیمہ بن کے اِک طوفان کا آئی ہوا دُور اُفق پر چھا گئی گھنگھور اور کالی گھٹا مست ہاتھی کی طرح جھومی وہ متوالی گھٹا کس […]

ترے در سے اُٹھ کے جانا ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا

درِ غیر پہ ٹھکانہ ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا جہاں یار ہو نہ میرا ، ہو جہاں نہ اُس کا پھیرا وہاں میرا آنا جانا ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا ترا ذکرِ خیر دلبر ، ہے ازل سے میرے لب پر کسی اور کا فسانہ […]

ہر اہتمام ہے دو دن کی زندگی کے لیے

سکون قلب نہیں پھر بھی آدمی کے لیے تمام عمر خوشی کی تلاش میں گزری تمام عمر ترستے رہے خوشی کے لیے نہ کھا فریب وفا کا یہ بے وفا دنیا کبھی کسی کے لیے ہے کبھی کسی کے لیے یہ دور شمس و قمر یہ فروغ علم و ہنر زمین پھر بھی ترستی ہے […]