طُوفانی رات کے چند شعر
رفتہ رفتہ رات آئی بڑھ گیا پُروا کا شور بادلوں کی فوج نے مل کر مچایا اک شور پھر ذرا سی دیر میں جھکڑ چلا اک زور کا پیش خیمہ بن کے اِک طوفان کا آئی ہوا دُور اُفق پر چھا گئی گھنگھور اور کالی گھٹا مست ہاتھی کی طرح جھومی وہ متوالی گھٹا کس […]