اردوئے معلیٰ

Search

ہر اہتمام ہے دو دن کی زندگی کے لیے

سکون قلب نہیں پھر بھی آدمی کے لیے

 

تمام عمر خوشی کی تلاش میں گزری

تمام عمر ترستے رہے خوشی کے لیے

 

نہ کھا فریب وفا کا یہ بے وفا دنیا

کبھی کسی کے لیے ہے کبھی کسی کے لیے

 

یہ دور شمس و قمر یہ فروغ علم و ہنر

زمین پھر بھی ترستی ہے روشنی کے لیے

 

کبھی اٹھے جو خورشید زندگی بن کر

ترس رہے ہیں وہ تاروں کی روشنی کے لیے

 

ستم طرازی دور خرد خدا کی پناہ

کہ آدمی ہی مصیبت ہے آدمی کے لیے

 

رہ حیات کی تاریکیوں میں اے زاہدؔ

چراغ دل ہے مرے پاس روشنی کے لیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ