فصلِ گل کے لیے کیا جان پہ کھیلے کوئی
اب تو ہر موجِ بلا تحفۂ خوں مانگتی ہے
معلیٰ
اب تو ہر موجِ بلا تحفۂ خوں مانگتی ہے
دل ہمارا جس پہ آیا تھا وہ انساں کون تھا
کب امیدِ سحاب رکھتے ہیں
اور ہم شکوۂ تنہائی لیے بیٹھے ہیں
اب کسی سے کوئی شکوہ نہ گلہ ہو جیسے
ہم خود اسیر ہو کے کُھلے گھر میں رہ گئے
ایک تقسیم کا اندوہ و محن یاد نہیں
شہر میں گھر بنا کے دیکھ لیا
حوصلہ دل کا بھی اب ٹوٹ رہا ہو جیسے
پھول تھے ، کچھ بکھر گئے یارو