ہم کو رکھنا ہے بہرحال ہرا پیڑوں کو
ہم پرندوں پہ برا وقت نہ آنے دیں گے
معلیٰ
ہم پرندوں پہ برا وقت نہ آنے دیں گے
پتھروں کو بھی ترے خواب دکھائی دیتے
اب جو قاتل ہے وہ مقتول بھی ہوسکتا ہے
کاٹنے والے مجھے بانجھ شجر کہتے تھے
بنا دی پیڑ کی تصویر اک دیوار پر میں نے
میں اس کو حسب ضرورت ، بہت ضروری ہوں
میں لکھوں گی عشق کی موجد یہی منحوس ہے
ایک ہی وقت میں میں خوش بھی ہوں افسردہ بھی
غم میسر آ گیا ہے وہ بھی حسبِ ذائقہ
آپ میرا بارہا برتا ہوا مضمون ہیں