ہم کو رکھنا ہے بہرحال ہرا پیڑوں کو

ہم کو رکھنا ہے بہرحال ہرا پیڑوں کو

ہم پرندوں پہ برا وقت نہ آنے دیں گے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

فارس اک روز اسی عطر سے مہکے گا وہ شخص
مَیں’’ عِشق ‘‘لِکھوں ، تُجھے ہو جائے
مگر پھر ایک دن اُس سے مِلا میں
نظر چُرا کے کہا بس یہی مقدر تھا
غمِ دوراں سے رہا ہو کے کدھر جانا ہے
اٹھایا اس نے بیڑا قتل کا کچھ دل میں ٹھانا
اس کے لہجہ میں شکا یت تو کہیں پنہاں تھی
یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیا
بزم احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
تو میں وہموں کی ماری بس وہیں پر بیٹھ جاتی ہوں