وا رہتا ہے اُن پر درِ ایوانِ مدینہ
اس اوج پہ فائز ہیں اسیرانِ مدینہ ہے خُلد بھی اک گوشۂ دامانِ مدینہ کس درجہ ہے وُسعت تری میدانِ مدینہ تم ایسی امارت کو سمجھ ہی نہیں سکتے رکھتے ہیں جو گدڑی میں فقیرانِ مدینہ یک لحظہ بھی لَو ماند نہیں پڑتی یہاں کی آباد ہی رہتا ہے شبستانِ مدینہ وہ اور کہیں جانے […]