اردوئے معلیٰ

آج مشہور عالم دین مولانا ظہور الحسن درس کا یوم وفات ہے۔

مولانا ظہور الحسن درس(پیدائش: 9 فروری، 1905ء- وفات: 14 نومبر، 1972ء)
——
مولانا ظہور الحسن درس تحریک پاکستان کے حوالے سے اہم کردار ادا کرنے والے جنہیں قائد اعظم سندھ کا بہادر یار جنگ کہا کرتے تھے۔
آپ 9 فروری 1905ء کو کراچی میں مولانا عبدالکریم درس کے ہاں پیدا ہوئے۔
ابتدائی تعلیم والد ماجد مولانا عبد الکریم درس اور صوفی محمد عبد اللہ درس سے درسی نصاب میں تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے ۔ روحانی اعتبار سے خانوادہ گیلانیہ بغداد شریف کے ایک بزرگ سید عبد السلام الگیلانی القادری کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور سلسلہ قادریہ کی خلافت سے سرفراز ہوئے ۔
آپ 1940ء سے 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے رکن اور اہم عہدوں پر فائز رہے۔قائد اعظم آپ کو سندھ کا بہادر یار جنگ کہا کرتے تھے۔
سنی کانفرنس بنارس کے موقع پر صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی نے آپ کو جماعتِ اہلِ سنت کے احیاء کے لیے 50 روپے کا فنڈ عنایت فرمایا جس میں سے 23 روپے خرچ ہوئے اور باقی 27 روپے یہ کہہ کر حضرت صدر الافاضل کو واپس کر دیے کہ جماعت اب خود کفیل ہو گئی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر رضی اختر شوق کا یومِ پیدائش
——
قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم نے عید الفطر اور عید الاضحی کی نمازیں آپ ہی کی اقتداء میں ادا کیں۔ اکتوبر 1947ء میں جب عید الاضحی کی نماز کے وقت قائد اعظم کے عید گاہ میں پہنچنے میں تاخیر ہوئی اور اعلیٰ حکام نے آپ سے نماز کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی تو آپ نے کہا کہ میں قائد اعظم کے لیے نماز پڑھانے نہیں آیا ہوں بلکہ خدائے عزوجل کی نماز پڑھانے آیا ہوں چنانچہ انہوں نے صفوں کو درست کرکے تکبیر فرما دی۔ اتنے میں قائد اعظم بھی عید گاہ پہنچ گئے اور انہوں نے پچھلی صفوں میں نماز ادا کی۔ نماز کے بعد قائد اعظم نے مولانا ظہور الحسن درس کی جرأت ایمانی کی تعریف کی اور کہا کہ ہمارے علما کو ایسے ہی کردار کا حامل ہونا چاہیے۔
مولانا ظہور الحسن درس کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں چشم تلطف پنجتن‘ خون کے آنسو معادن ظہور الحسن اور تحقیق الفقہ اما فی کلمتہ الحق کے نام سرفہرست ہیں۔
مولانا ظہور الحسن درس نے 14 نومبر 1972ء کو وفات پائی اور کراچی میں قبرستان مخدوم صاحب نزد دھوبی گھاٹ کراچی میں آسودۂ خاک ہوئے۔
——
منتخب کلام
——
گذرے جو صبا تو، کبھی طیبہ کی گلی سے
اک عرض ہے کر دینا رسول عربی سے
کہتا تھا سلام آپ کا اک عاشق ِ تفتہ
بےچین تھا ، مجبور تھا ، درد ِ جگری سے
فرقت میں تڑپتا تھا وہ دلدادہ ء الفت
بلوا لو مدینے میں کہ مضطر ہے ، کبھی سے
اللہ کے محبوب ہو اے فخر ِ دو عالم
رتبہ ہے سوا آپ کا ہر ایک نبی سے
کس طرح بھلائے کوئی دل سے تجھے آقا
دل سب کا منور ہے تری جلوہ گری سے
جنت میں چلا جائے طفیل ِ شہ ِ والا
فرمان ِ خدا حشر میں یہ ہوگا سبھی سے
ناکام رہوں کیسے کراچی میں ظہور ، اب
امید قوی مجھ کو ہے مکی مدنی سے
——
یہ بھی پڑھیں : مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے
——
حبدا ۔ صلی علی صلی صدر العلی یہ ہی تو ہیں
تاجدار ہل اتی، شمس الضحی یہ ہی تو ہیں
جلوہ نور خدا ، بدر الدجی یہ ہی تو ہیں
دیکھیے حضرت محمد مصطفی یہ ہی تو ہیں
لیلتہ المعراج میں کہتے تھے سب سے جبرائیل
جن کا طالب ہے خدا وہ مہ لقا یہ ہی تو ہیں
کر رہے ہیں انبیا آپس میں سب سے گفتگو
ہم ہیں عالی مرتبہ پیش ِ خدا یہ ہی تو ہیں
حاملان ِ عرش نے دیکھا جو اس شب آپ کو
کہتے تھے سب صدرِ ایوان ِ دنی یہ ہی تو ہیں
متقدائے انبیا و پیشوائے اولیا
پادشاہ ِ دوسرا خیر الوریِ یہ ہی تو ہیں
دستگیر ِ بے کساں و چارہ ساز ِ عاشقاں
شافع ِ کل عاصیاں ، روز ِ جزا یہ ہی تو ہیں
محفل میلاد میں ہوتا ہے ان کا ہی ظہور
کچھ بصیرت چاہیے وہ مہ لقا یہ تو ہیں
——
محمد سے الفت جو کامل رہی ہے
عطا بھی خطاوں میں شامل رہی ہے
بتا تو ہی ہستی ، ترے عاشقوں کی
کبھی یاد سے تیری غافل رہی ہے
خدا کی قسم حسرت ِ دید تیری
مری زندگانی کا حاصل رہی ہے
ہیں چرچے ترے جب زبان چمن پر
تو مدحت تری شمع محفل رہی ہے
جسے حسرت ِ دید کہتے ہیں عاشق
وہ حسرت مری حسرت دل رہی ہے
کوئی شان ِ احمد کو سمجھا نہ سمجھے
کہ عاقل ، یہاں عقل عاقل رہی ہے
ظہور ِ حزیں کو مدینے بلالو
کہ باقی یہی حسرت ِ دل رہی ہے
——
یہ بھی پڑھیں : مشہور شاعر اور صحافی ظہور نظر کا یوم وفات
——
ملے جس سے جنت وہی چیز ہے
نبی کی محبت بڑی چیز ہے
نہ ہو شکر ہر سانس پر کیوں بھلا
خدا کی عطا کی ہوئی چیز ہے
ادا فرض ِ الفت اگر کر رہے ہیں
تمنائے دل بھِی کوئی چیز ہے
یہ مانا کہ کعبہ ہے کعبہ ہمارا
مدینہ مگر دوسری چیز ہے
بنایا انہیں دونوں عالم کی رحمت
قسم حق کی ذات نبی ، چیز ہے
ہو ایمان مومن کا یا زہد ِ زاہد
غرض دی ہوئی آپ کی چیز ہے
مدینے پہنچ کر یہ کہتی ہے قسمت
جسے ڈھونڈھتے تھے وہی چیز ہے
زمانے کی کل نیکیوں میں ریا ہے
ظہور ایک یاد نبی چیز ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات