رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شب زلف یا مشکِ ختا ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں ممکن میں یہ قدرت کہاں واجب میں عبدیت کہاں حیراں ہوں یہ بھی ہے خطا ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں حق یہ کہ ہیں عبدِ اِلٰہ، اور عالمِ امکاں کے شاہ برزخ ہیں وہ سرِّ خدا ، یہ بھی نہیں وہ […]