اردوئے معلیٰ

Search

آج اردو میں مابعد جدید نظریہ کے حامل شاعروں میں اپنی منفرد خصوصیات، اچھوتی اور نرالی نگارشات اور نو تراشیدہ لفظی ترکیبات نکالنے والے شاعر مقیم اثر بیاولی کا یومِ وفات ہے

 

مقیم اثر بیاولی(پیدائش: 31 دسمبر 1941ء – وفات: 27 اپریل 2016ء)
——
مقیم اثر بیاولی معنیٰ آفریں لفظوں کی ٹکسال از ڈاکٹر محمد حسین مُشاہد رضوی
——
(قلندرِ مالیگاؤں مقیم اثر بیاولی کی پہلی برسی پر خراجِ عقیدت)
مقیم اثر بیاولی ثم مالیگانوی کے فکر و فن اور شعری و فنی محاسن پر کچھ لکھنے کے لیے بڑی دیدہ وری کی ضرورت ہے ۔ان کے اشعار میں لفظ و معانی، جذبہ و تخیل، حسن و عشق، جدت و ندرت، پیکر و محاکات اور دیگر شعری و فنی محاسن کا ایک جہانِ پنہاں ہے۔ بہ قول حکیم انجم فوقی بدایونی : ’’ مقیم اثر بیاولی کا شعری مرتبہ کیا ہے یہ فیصلہ بعد میں ہوگا اولاً جو بات بہ شدت محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ مقیم اثرؔ کے کلام و شخصیت ، دونوں میں کوئی ایسی طوفانی گھن گرج ضرور ہے کہ قاری اُس سے متاثر ہوکر تھوڑی دیر کے لیے سب کچھ بھول جاتا ہے اور یہ معمولی بات نہیں ۔‘‘ (لمحے لمحے)
غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ،اردو میں ما بعد جدید نظریہ کے حامل شاعروں میں اپنی منفرد خصوصیات،اچھوتی اور نرالی نگارشات اور نوتراشیدہ لفظی ترکیبات کے سبب مقیم اثر بیاولی کا نام ممتاز اور نمایاں مقام و منصب پر فائز ہے۔آپ ادارہ رسیدہ روایتی ترقی پسندی،فیشن زدہ روایتی جدیدیت پسندی، کوتا ہ رسیدہ اشتراکیت پسندی کے فرقہ وارانہ تعصبات کے خول سے ماورا ہمہ جہت و ہمہ گیر بلکہ عالمگیر و آفاقی روحانیت پسند،اخلاقیت پسنداور فطری انسانی بصیرت و بصارت کے حامل سکندرانہ اداوں اور قلندرانہ جلال کے امیٖن ایک اچھے اور سچے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بلند پایہ انشاپرداز اور مایۂ ناز نثر نگار بھی ہیں۔بقولِ نظام صدیقی :’’ پچاسوں دیوانوں کادیوانہ شاعر… مقیم اثر بیاولی کا مابعدجدیدتخلیقی شعری کردار اکیسویں صدی کو محیط وہ برق رَومعانی آفریں،جہت نما،روشن سفر ہے ،جو بھٹکی ہوئی غزل اور نظم کا قبلہ درست کردے گا۔‘‘
——
یہ بھی پڑھیں : جھکا کے اُن کی عقیدت میں سر مدینے چلو
——
مقیم اثر بیاولی کی شاعری کے موضوعات متنوع اور گوناگوں،ہمہ گیر وہمہ جہت ہیں۔آپکی شعر کائنات کے موضوعات کا دائرہ آدمی، زندگی، زمانہ، کائنات، خالقِ کائنات، فطرت کے گہرے حقائق، جبرواختیار، مقامِ آدمیت، منصبِ رسالت، عقیدے سے گہری وابستگی، قضاوقدر، جذباتی بے رشتگی سے پیداشدہ تنہائی، سماجی بے گانگی، لایعنیت، احساسِ زیاں، احساسِ نا تکمیلیت، لاحاصلی، یاسیت، لاحاصلی، دردوغم، شعلہ فگنی، احتجاج، انحراف، جلال، جمال، عاشقی، رندی، سرمستی، آلامِ روزگار، دعاے بزرگاں، جفاے دوستاں، آزارِ دشمناں، اعترافِ حقیقت، پابندیِ وقت، غمِ ذات، غمِ کائنات، اقدار کی پامالی، مادیت کے فروغ سے بڑھتے جرائم وغیرہ کو اپنی وسعتوں میں محیط کرتا ہے ؏
——
میں بھی پرکارِ حق کا اک نقطہ
دائرہ دائرہ سفر میرا
وہ نور کیوں نہ کھلے گا مری بصیرت پر
کہ ہر تحرکِ پردہ سے باخبر ہوں میں
اس کے جلوؤں کے سوا بھایا نہ کوئی جلوہ
ہے یہی عمرِ رواں حسن ِ نظر کا حاصل
یہ فیض اس کا خطاوں سے چشم پوشی کی
میں بد گماں تھا مگر آسرا دیا اُس نے
وہی فراق ، وہی جستجو ، وہی کاوش
چھپا اشارۂ ہجرت شبِ وصال میں ہے
کھلی جو چشمِ بصیرت تو میں نے یہ دیکھا
نئے عروج کا آغاز ہر زوال میں ہے
دل کے جھکنے کی خبر ہو پھر نہ سر کٹنے کا ہوش
ایک سجدہ ہو اگر ایسا جسے سجدہ کہوں
جس میں تیرا غم نہیں وہ دل نہیں کچھ اور ہے
کیسے خالی قبر کو راحت گہہ تقویٰ کہوں
——
آپ کا کلام ہر نوعیت کی تحریک شکنی،میلان شکنی،ساخت شکنی،اسلوب شکنی،لفظیات شکنی،نحویات شکنی اور صوتیات شکنی سے مملو ہے ۔تاہم بیک وقت خوب تر، نئی اور البیلی ،اچھوتی اور نرالی صوتی تخلیقیت،صرفی تخلیقیت،نحوی تخلیقیت،معنوی تخلیقیت،عروضی تخلیقیت اور بدیعی تخلیقیت کی امیٖن ہے،جو اپنے آپ میں مثالی بھی اور بے مثالی بھی ۔ذیل کی غزل سے ہمار ایہ دعویٰ مکمل طور پر مترشح ہوتا ہے ۔اس میں طرزِ اظہار کا انوکھا بانکپن اور اسلوب کی جدت و ندرت یہ ہے کہ ہر شعر کے دوسرے مصرعے کے شروع میں ہم قافیہ الفاظ کا ادیبانہ مہارت سے استعمال کیا گیا ہے جس کے سبب آہنگ درونِ آہنگ وجود میں آیا ہے،اسلوب کا یہ نرالا پن مقیم اثر بیاولی کے علاوہ کہیں اور نظر نہیں آتا ؏
——
سر بُریدہ خداوں کی پہچان کیا
نم ، نمیدہ ہواوں کی پہچان کیا
کِشت لاحاصلی ، یاسیت درد و غم
ناشنیدہ دعاوں کی پہچان کیا
کٹ کے سورج سے نذرِ ہوا ہوگئیں
غم رسیدہ شعاوں کی پہچان کیا
دیدہ و دل کی حیرانیاں برف زار
دیدہ ، دیدہ اداوں کی پہچان کیا
نیل کی موج پر حکم فرعون کا
پر بُریدہ عصاوں کی پہچان کیا
کاسۂ سے سے فکرِ رسا چھین لیں
برگزیدہ سبھاوں کی پہچان کیا
——
سربُریدہ، نم نمیدہ، ناشنیدہ، غم رسیدہ، پربُریدہ، آفریدہ، آرمیدہ، آبدیدہ، خط کشیدہ، برگزیدہ ہم قافیہ الفاظ ہیں۔ ان کے علاوہ دعاوں،خلاوں،فضاوں،عصاوں،اداوں وغیرہ قافیے تو ہیں ہی۔اس طرح ایک ہی غزل میںدو الگ الگ قوافی کی وجہ سے پوری غزل میں بڑی دلکش صوتی،نحوی،عروضی اور بدیعی نغمگی پیدا ہوگئی ہے۔جو شاعر کی فنکارانہ چابکدستی اور ادیبانہ مہارتِ تامہ پر دال ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : مبارک عظیم آبادی کا یومِ وفات
——
مقیم اثر بیاولی کے کلامِ بلاغت نظام کو پڑھنے کے بعد قاری رو شناسی سے آگے روح شناسی کے جذبات سے ہمکنار ہوکر خود شناسی اور خدا شناسی کا شعور وادراک لے کر اُٹھتا ہے۔وہ مادّیت پسندی کے خول سے نکل کر روحانیت پسند بن جاتا ہے اور اسے مَن عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ کا عرفان حاصل ہوتاہے،قاری مقامِ بشر و رسول سے بھی واقف ہوتا ہے،مقامِ آدمیت کی عظمت و رفعت کا ادراک بھی اسے ہوتا ہے اور وہ خود آگہی،کائنات آگہی سے آگے بڑھ کر خدا آگہی کے آفاقی تصورات سے ہمرشتہ ہوتے ہوئے اپنی حقیقت و ماہیت کو پہچان کر احساس وشعور میں جذباتی طہارت،جمالیاتی پاکیزگی اور روحانی ترفُّع پیدا کرتا ہے ؏
——
ارض و سما سے اونچا اپنا مقام ہوگا
دل کو حرم بنا لو کعبہ غلام ہوگا
——
جب ہم نے درد و کرب کی سرحد عبور کی
معلوم یہ ہوا کہ ہمیٖں میں خدا بھی ہے
——
کس لب پہ کس زباں پہ نہیں اس حسیٖں کی بات
جس نے غزل کو حُسنِ دوعالم عطا کیا
——
پہلے لازم ہے کہ ہستی کو سمجھ لے انساں
آدمی پھر کسی ہستی کا پرستار بنے
——
نیکیاں ہیں مری کہ تیرا خیال
راہ میں دور تک اجالا ہے
——
اسی کا رنگ مری حسرتوں کے قالب میں
بدن رُتوں میں مہکتا خطاب بھی وہ
——
واقف نہیں جو منزلِ راہِ سلوک سے
وہ بے اثر ، اثرؔ کو اثر مانتے نہیں
——
سب کے دامن سے چھٹے ہم تو یہ معلوم ہوا
سب کے دامن سے کُشادہ ہے خدا کا دامن
——
ہے اگر معنیٰ کی خوشبو تجھ میں لفظوں میں اُتر
پہلے اپنی جاں کا عارف بن تو غزلوں میں اُتر
——
متذکرہ بالا اشعار تصوفانہ رنگ و آہنگ ڈھلے اور عارفانہ رنگ سے مملو ہیں۔جو مَن عَرَفَ نَفسَہٗ فَقَد عَرَفَ رَبَّہٗ کے شارح نظر آتے ہیں۔
اسی طرح مقامِ رسول ودیارِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ انداز مقیم اثر بیاولی کے بارگاہِ رسالت مآب کے ادب واحترام کے تئیں حزم و احتیاط کو جلوہ دکھاتاہے۔
——
یہ بارگاہِ نبی ہے نہ تیز کر لَے کو
نہ سر اُٹھا کہ ادب میں یہی کھلا شر ہے
بشر تو خیر بشر ہے بشر کا دعویٰ کیا
کوئی بتائے کہ نبیوں میں اُن کاہمسر ہے
——
تو وہ کعبہ ہے کہ کعبہ تری تعظیم کرے
جلوۂ حق ہے سراپا ہمیں تن من تیرا
——
ہوئی حقیقتِ مطلق سے گفتگو جس کی
وہ امتوں میں بشیر و نذیر ہوتا ہے
——
وہیں کے نُور سے پھیلے گی روشنی گھر گھر
زمانہ لاکھ رکھے دشمنی مدینے سے
——
محمد رازدارِ کبریا ہیں
محمد جلوہ زارِ کبریا ہیں
محمد بن فلک بھی خاک آلود
محمد ہی قرارِ کبریا ہیں
——
مقیم اثر بیاولی نے اپنے اشعار میں تشبیہات، استعارات، اشارات، کنایات، محاورات، علامات، تلازمات،محاکات اور پیکرات کے جِلَو میں نو تراشیدہ اور خود وضع کردہ ترکیباتِ لفظی کا جو نگار خانۂ رقصاں آراستہ و مزین کیا ہے اور ان ترکیبات کو روایتی شعری لفظیات میں مدغم کرکے جس منفر د اور اچھوتے انداز میں برتا ہے وہ اردو کے دیگر شاعروں کے یہاں تلاشِ بسیار کے باوجود نظر نہیں آتا۔یہ شعری لفظیات اور نوتراشیدہ ترکیبات بظاہر سادہ معلوم ہوتی ہیں لیکن معنی آفرینی،مضمون آفرینی،جدتِ ادا،طرزِ ادا کے بانکپن،شوکتِ لفظی،بندش و چستی اور ندرتِ بیان کا ایک بحرِ بیکراں اپنے اندر سموئے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔جن سے مقیم اثرؔکی انفرادی اور امتیازی رفعت و عظمت مترشّح ہوتی ہے۔ان نوتراشیدہ ترکیباتِ لفظی کو ’’مقیم اثری مجتہدانہ کاوش‘‘ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔یہ ایک سچائی ہے کہ مقیم اثر بیاولی ایک ایسا فنکار ہے جو ہر لمحہ نئی بات کی کھوج میں لگا رہتا ہے،خود کہتے ہیں ؏
——
نہ کہی ہوئی نہ سُنی ہوئی ، نہ پڑھی ہوئی نہ لکھی ہوئی
کسی ایسی بات کی کھوج میں ہے اثرؔ تمہارا لگا ہوا
——
یہ بھی پڑھیں : اثر لکھنوی کا یوم پیدائش
——
مقیم اثر بیاولی کا شعری و ادبی سفر ’’لاتقنطوا‘‘ سے شروع ہوتا ہے ۔یہاں آپ نے یاسیت اور ناامیدی کے چاہِ عمیق میں امید و بیم کا آبِ شیریں بہایا ہے۔ یہ مجموعہ آپ کے ادبی وفنی جمالیات اور حسی و ادراکی جذبات واحساسات کا اوّلین نقش ہے،لیکن اس میں بچکانہ فہم و فراست اور طفلانہ شوخی کا کہیں بھی شائبہ نظر نہیں آتا۔مکمل طور پر لا تقنطو ا کی غزلیں اور نظمیں آپ کے قادرالکلام اور ماہرِ فن شاعر ہونے کا بین اعلان کرتی ہیں۔لاتقنطوا سے چند نمایندہ اشعار ؏
——
صنم کدوں کی پرانی روایتوں کے اسیر
مقامِ حسنِ حقیقت کا را ز پا نہ سکے
دکھا چکے تو ہیں آئینہ ماہ و انجم کو
مری نواؤں كی آتش كی تاب لانه سكے
——
شیشے کی زمینوں پہ سفر میرے قلم کا
ہر گام پہ خطرات ہیں آسانیاں کم ہیں
——
جسم کے اندر اندھیرا دور تک پھیلا ہوا
پھر بھی خوش ہم صورتوں کو اپنی چمکاتے ہوئے
——
مقیم اثر بیاولی کا تخلیقی بصیرت و بصارت اور فنی ریاضت و مجاہدہ جب لاتقنطوا سے آگے کا سفر کرتا ہے تو وہ پتھروں سے روحانی،عرفانی،اقداری سرمدی نغمات ِ جانفزا کو جنم دینے کی کاوشِ جمیل کرتا ہوا نظر آتا ہے۔جو نغمۂ سنگ کی صورت میں دنیائے ادب میں اپنے منفرد اور انوکھے اسلوب کا لوہا منواتا ہے۔ یہاں پہونچ کر مقیم اثرؔی نوتراشیدہ ترکیب سازی کا جوہر اور معنیٰ آفریں لفظوں کے انسلاکات کا ہنرمزید نکھر جاتا ہے اور ہمیں ایک نئے جمالیاتی آہنگ سے ہمکنار کرتا ہے ،ذیل میں نغمۂ سنگ سے چند شہ پارے ملاحظہ کریں ؏
——
ایک روٹی اسے میں کیسے اکیلا کھاؤں
میرے حصے میں کسی اور کا حصہ لکھ دے
——
آگ کی لپٹوں سے الجھا پی گیا سورج کی دھوپ
ایک قطرہ اتنی آسانی سے کب دریا ہوا
——
کسی کی یاد کا اب بھی چراغ جلتا ہے
یہی اجالا یہی آسرا مرے گھر کا
——
کہاں سے شورِ انا لحق اٹھا نہیں معلوم
میں کون ہوں مجھے اپنا پتا نہیں معلوم
کہاں جھکوں ، کسے سجدہ کروں ، کسے پوجوں
کہاں نہیں ہے ، کہاں ہے خدا نہیں معلوم
——
لاتقنطوا سے نغمۂ سنگ اور اس کے آگے بدن نژاد قبا میں مقیم اثر بیاولی نے شراب و شباب پسندروایتوں،ادارہ رسیدہ روایتی ترقی پسندی،فیشن زدہ روایتی جدیدیت پسندی،کوتاہ اندیش اشتراکیت پسندی کی برہنگی و عریانیت کو قبا پہنا کر انھیں ملبوسِ حنائی بخشنے کی کوشش کی ہے۔جس کا نظارہ بدن نژاد قبا میں کیا جا سکتا ہے۔اس مجموعۂ کلام میں کا شعری و شعوری ،علمی و ادبی اور جمالیاتی و جذباتی سفر مقیم اثری شعری و فنی عُلو میں رفتہ رفتہ اضافہ ہی کرتا چلا جاتا ہے، یہاں پہنچ کر آپ فکر و فن کے اوجِ ثریا تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں اور مقیم اثری نوتراشیدہ ترکیبوں میں یہاں ہمیں ایک بالکل نیا،اچھوتا،البیلا،نرالا،منفرد،امتیازی اور رفعت نشان انداز نظر آتا ہے جو اس بات کی علامت بن جاتا ہے کہ خود وضع کردہ ترکیبی انداز اور نوتراشیدہ ترکیبی اسلوب اور معنیٰ آفریں نت نئے لفظوں کا استعمال جیسے مقیم اثر بیاولی کا خاصّہ بن گیا ہے۔بدن نژاد قبا سے ترکیباتِ لفظی کی تازہ کاری و نادرہ کاری کے چند گلہاے رنگا رنگ ذیل میں ملاحظہ ہوں ؏۔
——
میں نے ادب کے فن پاروں سے پہلے اپنا نور بڑھایا
خوب کھنگالے گہرے سمندر تب اپنے لفظوں میں بسا ہوں
——
لغت نویس ہے معنیٰ کی الجھنوں کا شکار
زباں کا کام لیا ہم نے سادہ لفظوں سے
——
دل اگر بینا ہے ہر ذرے میں ہے اک آفتاب
ورنہ آنکھوں پر کھلا جلوہ یہاں جلوہ نہیں
——
ہم سے ہی پوچھ کہ پتھر کی گھنی بارش میں
ہم نے شیشوں کو سرِ راہ بچھایا کیسے
——
علاوہ ازیں جب مقیم اثر بیاولی مجتہدانہ و عالمانہ طرزِ اظہار کا آفتابِ عالم تاب ’’سرحدِ لفظ نہیں‘‘میں طلوع ہوتا ہے تو اس کا انداز ہی نرالا ہوجاتا ہے۔مقیم اثرؔ نے یہاںوحدانیت، رسالت، روحانیت، عرفانیت، اثباتیت، انسانیت، اخلاقیت، صالحیت، بصیرت، بصارت اور فعالیت کا جمالیاتی و جذباتی حسن و جمال اور خد وخال اجاگر کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ لفظ و معنیٰ اور صوت و صدا کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ۔
——
یہ بھی پڑھیں : خدمت گزارِ نعتِ رسولِ کریم ہوں
——
مقیم اثر بیاولی کے نوتراشیدہ ترکیبی مکاشفہ کی درخشندگی و تابندگی اس موڑ پر پہنچ کر مزید روشن و منور ہوجاتی ہے۔یہاں نوتراشیدہ لفظیات کی ترکیبات کی پختگی ، طرفگی،رنگارنگی،نادرہ کاری اور تازہ کاری کے گلہائے رنگا رنگ اپنے مکمل حُسن و دلکشی کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔اس میں پیش کیا گیا نوتراشیدہ ترکیبی اظہاریہ اور خود وضع کردہ ترکیبی اشاریہ مقیم اثر بیاولی کو اردو کے دیگر ہم عصر شاعروں پر ممیز کردیتا ہے ۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ نغمۂ سنگ اور بدن نژاد قبا کی بہ نسبت اس مجموعۂ کا پیرایۂ زبان و بیان قدرے سہل اور آسان ہے اس لیے یہاں نوتراشیدہ ترکیبوں کے جوہر میں بھی یہ رنگ صاف جھلکتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔سرحدِ لفظ نہیں سے چند اشعار ؏
——
وہ شعلہ برف ہوتے لہو میں اتار دے
مولیٰ جو اندروں کو میرے سنوار دے
——
مجھ سے خاموشیاں بات کرنے لگیں
درد جب سے کھنکنے لگے ہیں مرے
——
اسی باعث تو ہم راتوں کو خاطر میں نہیں لاتے
ہوئے روشن تو ہم سے سورجوں نے مات کھائی ہے
——
چاند ورق پر آج اترے تھے لفظ نئے
کیا کیا شور مچا تھا رات دھندلکوں میں
——
منتخب کلام
——
یہ زر پرست حکومت ہماری قاتل ہے
فضول ہے کوئی امیدِ زندگی اِس سے
پڑا جو وقت وطن کو بھی بیچ کھائے گی
ملے گی بھیک میں کس طرح روشنی اِس سے
——
سورج ، چاند ، ستارے ، جگنو ، آنسو ، دیپ
تجھ بِن سب کے گھر میں اندھیرا لگتا ہے
——
تشنگی ساحلِ تشنہ کی بجھادے تو کہوں
اپنے کوزے میں اگر رکھتا ہے پانی ، دریا
——
جسم کے اندر اندھیرا دور تک پھیلا ہوا
پھر بھی خوش ہم صورتوں کو اپنی چمکاتے ہوئے
——
برف میں دیکھ کر شرار اثرؔ
کوہساروں کا حوصلہ چُپ ہے
——
اثر وجودِ بشر ظلمتوں سے خائف ہے
خدادراز کرے سلسلہ چراغوں کا
——
آج ہر دریا ہے اپنے حق میں دریاے فرات
پیاس کو پھر کربلا کا معرکہ درکار ہے
——
خون اگر زندہ ہے رگوں میں رستے میں گل زار بہت
مرنا سیکھو پیدا ہوں گے جینے کے آثار بہت
——
دھول تھا، سنگ تھا، کاسہ تھا، گدا تھا، کیا تھا
اس نے کیا سوچ کے آخر مجھے ٹھکرایا ہے
——
غیروں کے تبصرے کا بھروسہ نہیں مجھے
تنہائیوں میں آ ! ، مری اچھائیوں سے مِل
——
سمندروں کو نیا راستہ دیا اس نے
ہزار رازوں سے پردہ اٹھادیا اس نے
کسی کی پیاس پہ جب آگیا ترس اس کو
سلگتی ریت میں دریا بہا دیا اس نے
بنا کے دل کو تمناؤں کا حسیں مسکن
اک اجڑے بن کو گلستاں بنادیا اس نے
یہ فیض اس کا خطاؤں سے چشم پوشی کی
میں بدگماں تھا مگر آسرا دیا اس نے
نہیں ہے مجھ کو گلہ اپنی بے ثباتی کا
یہ کم نہیں ہے کہ خود سے ملادیا اس نے
اندھیرے جس کے اجالوں سے ٹوٹ جاتے ہیں
مجھے اک ایسا چراغِ وفا دیا اس نے
کسی کی چھاؤں سے سوکھا درخت سبز ہوا
یہ معجزہ بھی نظر کو دکھا دیا اس نے
کرے نہ ناز کوئی اپنی سر بلندی پر
بڑے بڑوں کو ٹھکانے لگادیا اس نے
میں ایک طائرِ بے بال و پر تھا رستے کا
لگا کے پر مجھے اونچا اڑادیا اس نے
——
سر بُریدہ خداوں کی پہچان کیا
نم ، نمیدہ ہواوں کی پہچان کیا
کِشت لاحاصلی ، یاسیت درد و غم
ناشنیدہ دعاوں کی پہچان کیا
کٹ کے سورج سے نذرِ ہوا ہوگئیں
غم رسیدہ شعاوں کی پہچان کیا
دیدہ و دل کی حیرانیاں برف زار
دیدہ ، دیدہ اداوں کی پہچان کیا
نیل کی موج پر حکم فرعون کا
پر بُریدہ عصاوں کی پہچان کیا
کاسۂ ہر طلب ، گنجِ گوہر طلب
آفریدہ صداوں کی پہچان کیا
گل سے چہرے ترس جائیں مسکان کو
آرمیدہ بلاوں کی پہچان کیا
ہر بدن دھوپ کے پیرہن سے جلے
آبدیدہ اداوں کی پہچان کیا
ایک اک حرف ہے مقتلِ آرزو
خط کشیدہ صلاوں کی پہچان کیا
کاسۂ سے سے فکرِ رسا چھین لیں
برگزیدہ سبھاوں کی پہچان کیا
——
شہر تو اور بھی ہیں مثالی کئی
شان سب سے نرالی مرے شہر کی
تان سب سے انوکھی مرے شہر کی
اہل دیں خدمتِ دیں میں ڈوبے ہوئے
اہل دانش مسائل میں الجھے ہوئے
قائدینِ سیاست ، سیاست میں گم
اہل فن رہتے ہیں فن کی عظمت میں گم
اس کی آغوش گہوارۂ علم و فن
اس کی محنت میں ہے زیست کا بانکپن
اس کی بانہیں محبت کی پیغام بر
کوئی آئے کھلی ہیں سبھی کے لیے
سب کو سامانِ روزی مہیا کرریں
بابِ رحمت ہے محنت کشوں کے لیے
ساڑیوں میں ہیں گل زار کشمیر کے
دھوتیوں میں ہے دیہات کی سادگی
رقص کرتی ہے راہوں میں دوشیزگی
شاعروں اور ادیبوں کی کثرت سے ہے
شہر البیلی تانوں میں ڈوبا ہوا
شور ہی شور ہے گویا چاروں طرف
لیکن اس شور میں اے مرے دوستو
دھڑکنیں بھی ہیں شامل اسی شہر کی
جو ابھی تک سماعت سے محروم ہیں
مختلف رنگ اور روپ کا شہر ہے
چھاوں کاشہر ہے دھوپ کا شہر ہے
دوہی تاروں پہ موقوف ہے زندگی
ایک تارِ نفَس ، دوسرا سوت کا
ان میں سےایک بھی ٹوٹ جائے اگر
زندگی سب کی ہوجائے نامعتبر
اِس کی صبحوں کو ہے آفتابوں کا غم
اس کی شامیں نہیں ہیں ابھی محترم
راتیں بے نور ہیں مثلِ طاقِ حرم
گویا ہونٹوں پہ ہے وقت کا مرثیہ
اس کی صبحوں میں رنگِ بنارس نہیں
اس کی شامیں اودھ کا سنگھاسن نہیں
پھر بھی مستی میں ڈوبا ہوا شہر ہے
سلسلہ محنتوں کا ازل تا ابد
دستِ کاوش میں ہے کپڑا بُننے کافن
چار جانب مشینوں کااک شور ہے
زندگی باوجود اس کے کمزور ہے
صبح تا شام کرگھوں میں ڈوبا ہوا
بھوک اور پیاس ہے محنتوں کا صلا
ٹیکس کا بوجھ سر پر اٹھائے ہوئے
لر رہا ہے تمدن کے بحران سے
یہ نوازش ، کرم ، مہربانی ، عطا
میری اپنی حکومت ہی کی دین ہے
کوئی مونس نہیں کوئی پُرساں نہیں
آنسووں کی تمازت میں ڈوبا ہوا
یہ مرا شہر ہے ، یہ مرا شہر ہے
میں اسی شہر کا ایک فن کار ہوں
شان سب سے نرالی مرےشہر کی
تان سب سے انوکھی مرے شہر کی
منتظر ہوں میں اس صبحِ امید کا
جو مرے درد و غم کا مداوا کرے
جو غریبوں کو آسودگی بخش دے
میری تہذیب کو ،میرے احساس کو
میر ےجذبات کو میرے حالات کو
اک نئی روشنی ، اک نئی تازگی
اک نئی آرزو ، اک نئی جستجو
بے تکان اک سفر اک نئی سمت دے
منتظر ہوں میں جس صبحِ امید کا
اے خدا! موت اور زندگی کے خدا!!
زندگی کے افق سے وہ سورج اُگا !!
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ