خراب حال کیا دل کو پُر ملال کیا
تمہارے کوچہ سے رخصت کیا نہال کیا نہ روئے گل ابھی دیکھا نہ بوئے گل سونگھی قضا نے لا کے قفس میں شکستہ بال کیا وہ دل کہ خوں شدہ ارماں تھے جس میں مل ڈالا فغاں کہ گور شہیداں کو پائمال کیا یہ رائے کیا تھی وہاں سے پلٹنے کی اے نفس ستم گر […]