دلِ بے تاب ہوا چشم زدن میں پُر تاب
آ گیا لب پہ جو ذکرِ عمر ابن الخطابؓ پایا فاروقؓ کا اس فرد نے حسنِ القاب مرحبا وہ شہِ کونین کا ساتھی نایاب آرزو مند ہوا جس کا نبی بے تاب تھا قریشی وہ یہی تھا وہ یہی دُرِّ ناب دلِ تاریکِ عمرؓ نورِ نبی سے ضو تاب جیسے خورشید کی کرنوں سے ہو […]