یہ الگ بات کہ حیرت کرے، حسرت نہ کرے
دیدۂ شوق کہاں جائے جو مدحت نہ کرے اُن کی زلفوں نے برس جانا ہے بادل بن کر مہرِ محشر سے کہو اتنی تمازت نہ کرے آنکھ اِک دید پہ ٹھہری ہے تو ٹھہری ہی رہے دل کا کیا کام اگر ان سے محبت نہ کرے دل دھڑکتا ہے، سسکتا ہے، تڑپتا ہے بہت پاسِ […]