آئینے ہم نے دیکھ لئے صبح وشام کے

آئینے ہم نے دیکھ لئے صبح وشام کے

سب عکس بے مثال ہیں خیرالانام کے

 

وہ لوگ سیل کے وقت سے آگے نکل گئے

چلتے رہے جو دستِ شفاعت کو تھام کے

 

دشمن لہو کو امن کی پوشاک کر دیا

خنجر تمام توڑ دیئے انتقام کے

 

اُن کو پکار کے بڑی آسودگی ملی

وہ جانتے ہیں رنگ شکستہ کلام کے

 

سورج کے رنگ ماہ و ستارہ کے آئینے

موسم وہاں عجیب ہیں دیوار وبام کے

 

دہلیز مصطفیٰ کی طلب میں چلا ہوں میں

میں نے بجھا دیئے ہیں چراغ اپنے نام کے

 

جن کو شعورِ ذات ملا ہے حضور سے

دروازے اُن پہ کھل گئے شہرِ دوام کے

 

کوئی خدا کو دیکھنا چاہے تو دیکھ لے

چہرے پر اُن کے عکس ہیں حُسنِ تمام کے

 

اُن کی محبتوں کے لیے عمر چاہیے

جاذب یہ راستے نہیں دو چار گام کے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مدینے پاک جائوں ہے تمنا
خاکِ نعلین ہوئی سرمہ میری آنکھوں کا
رنج و آلام دور رہتے ہیں
کوئی فکر لو نہیں دے رہی' کوئی شعرِ تر نہیں ہورہا
نہیں ہے منگتا کوئی بھی ایسا کہ جس کا دامن بھرا نہیں ہے
خوشبو سے رَقم کرتا ہے گُل تیرا قصیدہ
کب تلک منتظر ہم رہیں یا نبیؐ
حروفِ عجز برائے سلام حاضر ہیں
بخت لگتا ہے کہ یاور ابھی ہونے لگا ہے
جی جائے گا یہ آپ کا بیمار کسی طَور