آئینے ہم نے دیکھ لئے صبح وشام کے

آئینے ہم نے دیکھ لئے صبح وشام کے

سب عکس بے مثال ہیں خیرالانام کے

 

وہ لوگ سیل کے وقت سے آگے نکل گئے

چلتے رہے جو دستِ شفاعت کو تھام کے

 

دشمن لہو کو امن کی پوشاک کر دیا

خنجر تمام توڑ دیئے انتقام کے

 

اُن کو پکار کے بڑی آسودگی ملی

وہ جانتے ہیں رنگ شکستہ کلام کے

 

سورج کے رنگ ماہ و ستارہ کے آئینے

موسم وہاں عجیب ہیں دیوار وبام کے

 

دہلیز مصطفیٰ کی طلب میں چلا ہوں میں

میں نے بجھا دیئے ہیں چراغ اپنے نام کے

 

جن کو شعورِ ذات ملا ہے حضور سے

دروازے اُن پہ کھل گئے شہرِ دوام کے

 

کوئی خدا کو دیکھنا چاہے تو دیکھ لے

چہرے پر اُن کے عکس ہیں حُسنِ تمام کے

 

اُن کی محبتوں کے لیے عمر چاہیے

جاذب یہ راستے نہیں دو چار گام کے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ