اردوئے معلیٰ

آج کل نیند بھی اذیت ہے
وقت بے وقت آنکھ کھلتی ہے
پھر یونہی رات کے گذرنے کا
اک تماشہ سا دیکھتی ہوں میں
وقت تصویر کر گیا ہے مجھے
اب نہ آواز ہے نہ بینائی
کتنی خاموش بے بسی ہوں میں
ٹوٹ کر چاہنے کی خواہش میں
ٹوٹ کر چور ہو گئی ہوں میں
اب کسی سے بھی بات کرنے کی
نہ تو خواہش ہے نہ ضرورت ہے
لگ رہا ہے کہ یہ دھڑکتا دل
تین سو دو( 302) کا کوئی قیدی ہے
جس کی قسمت میں دار لکھا ہے
موت کا منتظر جیے جائے
ہجر کی ساعت _ اذیت میں
اتنا کہرام کررہی یادیں
جیسے طوفان ہو سمندر کا اور کشتی کسی مسافر کی
راستہ بھول کر ادھر آئے
پھر کبھی واپسی نہ ہو اس کی
ضبط کی ہر طناب ٹوٹی ہے
کاش یہ آنسوؤں کی چیخیں اور
ہجر کی وحشتیں کہیں رکتیں
پر مرے کم نصیب دل ایسے
جس قدر منہ کو بھینچ لو اپنے
کم نہیں ہوتا شور آہوں کا
ہاتھ سے سسکیاں نہیں رکتیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ