اردوئے معلیٰ

آخرش لمحہِ موجود سے معدوم ہوئے

ہم کہ اک لمحہِ ناپید میں جینے والے

 

اک مسیحائے گریزاں کا تصور کر کے

زخم تادیر سلگتے رہے سینے والے

 

ہم کو آتے ہیں بلاوے کہیں گہرائی سے

کب تلک تھام کے رکھیں گے سفینے والے

 

عمرِ بے ربط ، کہ ترتیب سے عاری ٹھہری

ہم سے ہوتے ہی نہیں کام قرینے والے

 

ایک تو چاکِ گریبان پہ خوش ہیں ہم بھی

دوسرے تم بھی نہیں چاک کو سینے والے

 

ہائے کس کرب کے عالم سے نہ گزرے ہونگے

کوئی سقراط نہ تھے زہر کو پینے والے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات