اردوئے معلیٰ

Search

آدمی کا ہے فسانہ خاک سے

ہے ازل سے دوستانہ خاک سے

 

آپ کے چہرے پہ رونق ہے بہت

کیا کوئی نکلا خزانہ خاک سے

 

میں کسی کا بھی رہوں محتاج کیوں

پا رہا ہوں آب و دانہ خاک سے

 

اک قدم بھی کیا اٹھے اس کے بغیر

چل رہا ہے یہ زمانہ خاک سے

 

زہر بھر دے جو تمہارے خون میں

مت اگاؤ ایسا دانہ خاک سے

 

جینا مرنا ہے لحد کی خاک میں

میرا روشن آستانہ خاک سے

 

ساحرؔ عالم آشکارا ہو گیا

پیار تیرا والہانہ خاک سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ