اردوئے معلیٰ

Search

آراستہ کروں گا یوں اپنے سفر کو میں

چوموں گا فرطِ شوق سے دیوار و در کو میں

 

دل روبروئے گنبدِ خضرٰی کہاں رکے

سجدے سے روک لوں گا چلو اپنے سر کو میں

 

دِکھلا کے ہجرِ شہرِ نبی میں برستی آنکھ

لاؤں گا کھینچ کر بھی دعا تک اثر کو میں

 

جس راستے کی منزلِ مقصود ہوں حضور

جنت کہے کہ چوم لوں اُس رھگزر کو میں

 

اُٹھی ہے گردِ راہِ محمد کو دیکھنے

واپس بلاؤں کیوں بھلا اپنی نظر کو میں

 

پُل کے قریب پڑھتے ہوئے نعتِ مصطفٰی

آواز دوں گا طائرِ سدرہ کے پر کو میں

 

کہہ تو دیا ہے زائرِ طیبہ کو الوداع

کیسے دلاسہ دوں گا بھلا چشمِ تر کو میں

 

مدح سرائی کر کے تبسم حضور کی

نورانی کر رہا ہوں لحد والے گھر کو میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ