اردوئے معلیٰ

آزادی

جہانِ تیرگی میں روشنی ہے آزادی

سو خوش نصیب وہ، جن کو ملی ہے آزادی

 

خدایا ! شکر ادا جس قدر کریں کم ہے

وطن کے نام پہ ہم کو جو دی ہے آزادی

 

نہیں تھا اتنا بھی آسان یہ وطن لینا

جگر کا خون دیا ہے تو لی ہے آزادی

 

کہ ان کا نام قیامت تلک چمکتا رہے

کہ جن کے خون سے روشن ہوئی ہے آزادی

 

کسی نے عمر غلامی میں ساری کی ہے بسر

کسی نے جان کے بدلے چنی ہے آزادی

 

ہمارے قائدِ اعظم کا ہم پہ احساں ہے

نہ مل رہی تھی ہمیں،چھین لی ہے آزادی

 

دعا ہے ان کا رہے نام حشر تک طاہر

ہمارے نام یہ جس جس نے کی ہے آزادی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ