اردوئے معلیٰ

Search

آقا کی زلفِ نور سے عنبر سحر ملے

مدت سے آرزو ہے کہ اِذنِ سفر ملے

 

دہلیزِ مصطفیٰ پہ جھکا دوں میں اپنا سر

مجھ کو اگر حضور مدینے میں گھر ملے

 

پلکوں سے چن سکوں میں درِ مصطفیٰ کی ضو

نعلینِ مصطفیٰ سے لگی خاکِ در ملے

 

اے کاش میں بھی جاؤں دیارِ رسول میں

مجھ کو بھی ان کے شہر سے کوئی گہر ملے

 

آقا نے جو لگایا تھا پودا کھجور کا

سائے میں بیٹھنے کو مجھے وہ شجر ملے

 

دل میں یہی تمنا مچلتی ہے بار بار

ہر سو جو ان کو پائے وہی بس نظر ملے

 

پتھر نصیب کے ہیں دھنی ان کے شہر میں

بہتر جہاں سے بڑھ کے وہاں کے ثمر ملے

 

بڑھتی ہی جا رہی ہے مرے دل کی آرزو

مجھ کو بھی مصطفیٰ کی مؤدت کا زر ملے

 

آلِ نبی سے جن کی وفا میں شعور تھا

مجھ کو انہی ستاروں سے ارفع اثر ملے

 

سِدرہ سے آگے جاتے ہیں نعلینِ مصطفیٰ

جبریل کو جہاں کی نہ قائم خبر ملے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ