اردوئے معلیٰ

آنکھوں پہ گرد راہ ہے اور راہ گمشدہ

چہرے پہ کچھ ملال ہے اور دل اسیر رنج

اپنے پروں کا کس قدر مجھ کو غرور تھا

میری اڑان آسماں کی وسعتوں میں تھی

چاروں طرف بساط سے بڑھ کر تھی سرخوشی

لیکن کسی کو راس کب آتی ہے زندگی

جتنی طلب ہو ، پاس کب آتی ہے زندگی

پوروں پہ جتنے درد ہیں تیرے عطا کئے

وہ درد میرے آنسوؤں کا بخت ہوگئے

اب تو سماعتیں نہیں آہٹ کی منتظر

اب آس ہے نہ خوشبوؤں کی خواہشیں رہیں

بس بے دلی ہے اور بہت بیزار کیفیت

بس منقطع ہے رابطہ قرب و جوار سے

جو دل کے در پہ دستکیں دیتی تھیں أئے روز

ان آہٹوں سے چاپ سے بھی ان دنوں نہیں

اور ان دنوں کسی سے بھی مطلب نہیں مجھے

مطلب کہ اپنے آپ سے بھی ان دنوں نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات