اردوئے معلیٰ

آنکھوں کو جسجتو ہے تو طیبہ نگر کی ہے

دل کو جو آرزو ہے تو خیرالبشر کی ہے

 

پا لی ہے میں نے دین محمد کی سیدھی راہ

الیاس کی تلاش نہ حاجت خضر کی ہے

 

سرکار کی نظر ہے سبھی کچھ مرے لیے

مجھ کو طلب نہ جاہ کی نا سیم و زر کی ہے

 

جلوے بسے ہیں آنکھ میں ماہ حجاز کے

اب کیا مری نگاہ میں تابش قمر کی ہے

 

یا ذکر ہے مروت و خلق حضور کا

یا بات بوئے گل کی نسیم سحر کی ہے

 

آقا کی چشم لطف و عنائت سے پوچھئے

تائب جو منزلت مری اس چشم تر کی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات