آنکھیں جو خدا دے تو ہو دیدار محمد

آنکھیں جو خدا دے تو ہو دیدار محمد

ہوں کان تو سنتے رہیں گفتار محمد

 

اے کاش، مری قسمت خفتہ کبھی جاگے

اے کاش ملے خواب میں دیدار محمد

 

سودائے محبت کی جنہیں ملتی ہے دولت

سر بیچ کے ہوتے ہیں خریدار محمد

 

قید وہ ہے جو عشق محمد سے ہے آزاد

آزاد وہ ہے جو ہے گرفتار محمد

 

حافظ کی دعا تجھ سے ہے اے شافی مطلق

جیتا رہوں جب تک رہوں بیمار محمد

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

فطرت حق کے اشارے دل بے تاب سمجھ
دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے
محمدؐ، با خُدا، پیشِ نظر ہے
وہ سدا کامگار رہتا ہے
وہی محبوب، محبوبِ خُداؐ ہے
امام الانبیا ہیں، آپؐ ختم الانبیا
آقا غلام کب سے ہے اس انتظار میں
لب پہ میرے جو یوں سج گئی نعت ہے

اشتہارات