اردوئے معلیٰ

آنکھیں جو خدا دے تو ہو دیدار محمد

آنکھیں جو خدا دے تو ہو دیدار محمد

ہوں کان تو سنتے رہیں گفتار محمد

 

اے کاش، مری قسمت خفتہ کبھی جاگے

اے کاش ملے خواب میں دیدار محمد

 

سودائے محبت کی جنہیں ملتی ہے دولت

سر بیچ کے ہوتے ہیں خریدار محمد

 

قید وہ ہے جو عشق محمد سے ہے آزاد

آزاد وہ ہے جو ہے گرفتار محمد

 

حافظ کی دعا تجھ سے ہے اے شافی مطلق

جیتا رہوں جب تک رہوں بیمار محمد

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ